آزاد کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کی آل پارٹیز کانفرنس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ریاست کے حالات خراب کرنے کی کسی بھی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائےگا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی جس میں آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، وزیر اطلاعات آزاد کشمیر کی وی نیوز سے گفتگو
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابی کے بعد بھارت شدید بے چینی کا شکار ہے۔
معرکہ حق کی فتح نے تحریکِ آزادی کشمیر کو مزید مضبوط کیا ہے، جبکہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر ہوا ہے۔
اعلامیے میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ تمام سیاسی قیادت مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریکِ آزادی کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔
مزید کہا گیا کہ آزاد کشمیر کے حالات خراب کرنے کی کسی بھی سازش کا ہر سطح پر ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور تمام سیاسی جماعتیں عوامی مفاد اور مسائل کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گی۔
افواج پاکستان سے اظہار یکجہتی کے لیے مہم شروع کرنے کا اعلان
اے پی سی کے مطابق کسی بھی فورم یا پریشر گروپ کو عوامی مفاد کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور 21 ستمبر سے مسلح افواج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے عوامی رابطہ مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ جس کا پہلا جلسہ روالاکوٹ میں ہوگا۔
آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق، پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین، راجا فاروق حیدر، سردار تنویر الیاس اور دیگر شریک تھے۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے فورم نے مطالبات کے حق میں 29 ستمبر کو ریاست بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کررکھا ہے۔ ایکشن کمیٹی کی جانب سے حکومت کو 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عوامی حقوق کی آڑ میں ریاست کے خلاف سازش ہورہی ہے۔ اس لیے ہر صورت میں حکومتی رٹ قائم کی جائےگی۔
اس سلسلے میں امن و امان کی صورت حال کو قائم رکھنے کے لیے وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر میں 2 ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنے کی منظوری دی ہے، تاکہ امن و امان کی صورت حال قائم رہ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارت فنڈنگ کررہا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر کا الزام
یہ بھی واضح رہے کہ اس سے قبل جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے دباؤ پر حکومت نے آٹا 2 ہزار روپے (40 کلو) اور بجلی 3 روپے فی یونٹ کرنے کی منظوری دی تھی، جس کے بعد ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں مزید اضافہ ہوگیا، اور اب سب سے بڑا مطالبہ مہاجرین جموں و کشمیر کی نشستوں کے خاتمے کا کیا جارہا ہے۔














