اسپین کے اٹارنی جنرل نے اعلان کیا ہے کہ اسپین میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے جو غزہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے گی تاکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی معاونت کی جا سکے۔
بیان کے مطابق اٹارنی جنرل نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت ٹیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزیوں کے ثبوت جمع کرے گی۔
یہ شواہد بعد میں متعلقہ اداروں کے حوالے کیے جائیں گے تاکہ بین الاقوامی تعاون اور انسانی حقوق کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی، اسپین نے بھارتی جہاز کو لنگرانداز ہونے سے روک دیا
اس سے قبل ہسپانوی پولیس متاثرین کے بیانات اور دیگر ثبوت جمع کر چکی ہے، جنہیں تفتیش کاروں نے ’بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں‘ کی طرف اشارہ قرار دیا ہے۔
حکم نامے میں زور دیا گیا کہ اسپین میں ثبوت اکٹھے کرنا اہم ہے تاکہ مستقبل میں انہیں بطور ناقابلِ تردید شہادت استعمال کیا جا سکے اور ان جرائم کے مرتکب افراد کو جوابدہ بنایا جا سکے۔
اسپین نے اسرائیل کے ساتھ 825 ملین ڈالر کے اسلحہ معاہدے منسوخ کر دیے
یاد رہے کہ اسپین کی حکومت نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں اسرائیل سے اسلحہ کی خریداری کے بڑے معاہدے منسوخ کر دیے ہیں۔ فیصلے کے تحت 825 ملین ڈالر (قریباً 700 ملین یورو) مالیت کے راکٹ لانچر سسٹمز اور 287 ملین یورو کے اینٹی ٹینک میزائل لانچر معاہدے منسوخ کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے اسپین نے فلسطین کو باضابطہ طور پر آزاد ریاست تسلیم کرلیا
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق یہ معاہدے اسرائیلی کمپنی ایل بٹ سسٹمز کے تیار کردہ پلس پلیٹ فارم سے ماخوذ 12 ایس آئی ایل اے ایم راکٹ لانچر سسٹمز اور 168 اینٹی ٹینک لانچر کی خریداری سے متعلق تھے۔
یہ پیشرفت اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی جانب سے گذشتہ ہفتے اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کے ساتھ فوجی سازوسامان کی فروخت اور خریداری پر قانونی پابندی عائد کرے گی۔
مزید پڑھیں: اسپین کا عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف فریق بننے کا اعلان
سانچیز نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کو ’نسل کشی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اسپین کسی بھی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں ہوگا جو اسرائیلی جارحیت کو سہارا دے۔
رپورٹس کے مطابق اسپین کی وزارت دفاع اسرائیلی ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کو مسلح افواج سے مرحلہ وار ختم کرنے کا جامع جائزہ لے رہی ہے۔
خیال رہے کہ اسپین یورپ میں ان چند ممالک میں شامل ہے جو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی غزہ پالیسی کے سب سے زیادہ ناقد سمجھے جاتے ہیں۔
2024 میں اسپین نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور اسرائیل نے اپنا سفیر میڈرڈ سے واپس بلا لیا تھا۔













