سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے مری پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے حالیہ اقدامات پر کڑی تنقید کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جھیکاگلی، مال روڈ اور کشمیری بازار جیسے قدیمی کاروباری مراکز کو گرانے کے فیصلے غیر منصفانہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جھیکاگلی 150 سال پرانا بازار تھا لیکن حکومت نے آج تک عوام کو یہ نہیں بتایا کہ اسے کیوں مسمار کیا گیا، اس اقدام سے لوگوں کے روزگار چھینے گئے اور متاثرین کو کوئی معاوضہ بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: کرسی بچانے کے لیے ڈی چوک پر گولی چلائی گئی، شاہد خاقان عباسی کی پریس کانفرنس
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ لوئر ٹوپہ میں ایک عوامی اجتماع میں وہ خود شریک تھے، لیکن انتظامیہ نے اس اجتماع پر دہشتگردی کا مقدمہ درج کر دیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مری کے 3 رہنماؤں کو کس قانون کے تحت فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا، کیا وہ واقعی دہشتگرد ہیں؟ ان کے مطابق حکمرانوں کو حکمرانی کا زعم ہے، اگر طرز حکمرانی تبدیل نہ ہوا تو عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو پولیس اسٹیٹ بنا دیا ہے اور لوگوں کو بے روزگار کر کے ان سے جینے کا حق چھینا جا رہا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں بھی ان کے بقول میرٹ کی پامالی ہو رہی ہے اور عوامی نمائندے بیوروکریسی کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: شاہد خاقان عباسی آئی پی پیز کے حق میں بول پڑے
مہنگائی کے حوالے سے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آٹا اور چینی کا بحران شدید ہو چکا ہے، روزانہ اربوں روپے شوگر مافیا کی جیبوں میں جا رہے ہیں لیکن ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ وہ اقتدار میں بیٹھے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب تعلقات پر بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ معاہدے وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داریاں احسن انداز میں نبھائی ہیں۔
فلسطین کے حوالے سے انہوں نے شکوہ کیا کہ اس ملک میں غزہ کے حق اور فلسطین کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ نے عوام کی خودداری پر حملے جاری رکھے تو حالات مختلف رخ اختیار کر سکتے ہیں۔












