مڈغاسکر کی حکومت نے جمعرات کے روز دارالحکومت انتناناریوو میں شام سے صبح تک کرفیو نافذ کر دیا، جب بجلی اور پانی کی شدید کمی کے خلاف مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کے زیر قبضہ لداخ میں پُرتشدد مظاہرے، کرفیو نافذ
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہزاروں نوجوان مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور پلے کارڈ اٹھا کر حکومت کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
جنرل انجیلو راوِلوناریوو نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ افراد اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر دوسروں کی ملکیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

عوام اور ان کی ملکیت کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز نے شام 7 بجے سے صبح 5 بجے تک کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو جب تک عوامی امن قائم نہ ہو جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں:بڑی خبر! دنیا کے کئی ممالک میں پاکستانیوں کے لیے انٹری فری
جمعرات کے روز مظاہروں کے دوران دارالحکومت کے ایک بڑے شاپنگ مال کو لوٹا اور آگ لگا دی گئی جبکہ دو ارکان پارلیمنٹ کے گھر بھی نقصان پہنچا۔
مظاہرین نے ’ہمیں پانی چاہیے، ہمیں بجلی چاہیے‘ کے نعرے لگائے اور پولیس کی پابندی کے باوجود مارچ کیا۔ مظاہرے بعد ازاں شہر کے مختلف علاقوں تک پھیل گئے۔

مڈغاسکر، جو انڈین اوشین میں واقع ایک جزیرہ ملک ہے، شدید غربت کا شکار ہے اور بعض لوگ صدر اینڈری راجویلینا کی حکومت کو معاشرتی حالات بہتر نہ کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔












