بھارت کے زیر قبضہ لداخ میں پُرتشدد مظاہرے، کرفیو نافذ

جمعرات 25 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

 

بھارت کے زیر قبضہ لداخ میں ریاستی حیثیت کے مطالبے پر ہونے والے مظاہروں کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور حکام نے کرفیو نافذ کردیا۔

مظاہرے اور ہلاکتیں

مرکزی شہر لیہ میں ہونے والے احتجاج نے پُرتشدد رخ اختیار کر لیا، جس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ جھڑپوں کے دوران چار افراد ہلاک اور پولیس اہلکاروں سمیت اسی سے زائد زخمی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:لداخ میں پُرتشدد مظاہرے 4 افراد ہلاک، درجنوں زخمی

مظاہرین نے بی جے پی کے دفتر اور گاڑیوں کو آگ لگا دی جبکہ پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

سکیورٹی اقدامات اور پابندیاں

حکام نے ہنگامی بنیادوں پر کرفیو نافذ کرتے ہوئے پانچ یا زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی ہے۔ اہم علاقوں میں سکیورٹی فورسز کو تعینات کر دیا گیا ہے اور شہر کی مارکیٹیں و کاروباری مراکز بند کروا دیے گئے ہیں۔

پس منظر اور مطالبات

لداخ کے عوام طویل عرصے سے اپنے خطے کو ریاستی درجہ دلانے، مقامی نمائندگی اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ مظاہرے کی قیادت مقامی سماجی و سیاسی تنظیموں نے کی، جو خطے کے لیے خصوصی آئینی تحفظ اور روزگار میں کوٹہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ 2019 میں بھارتی حکومت نے متنازع فیصلے کے تحت لداخ کو جموں و کشمیر سے علیحدہ کر کے وفاقی علاقہ بنا دیا تھا، جس کے بعد سے عوامی بے چینی اور احتجاجی تحریکیں مسلسل جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جنوبی ٹوریڈز شہابیوں کی بارش آج عروج پر ہوگی، آسمان پر روشن شعلے دکھائی دینے کا امکان

اولمپک گولڈ میڈلسٹ کے گھر چوری، ڈاکو 1980 کا تاریخی طلائی تمغہ بھی لے اڑے

یوکرین میں امدادی مرکز پر روسی بمباری، ہلاکتیں 40 تک پہنچ گئیں

ٹرمپ کو انتخابی دھچکا، ایران، اسرائیل اور یوکرین سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی کا امکان

ٹیکساس میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر روکنے کا اعلان، اربوں ڈالر کے منصوبے غیر یقینی کا شکار

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا