اسلام آباد میں آوارہ کتوں کے خلاف سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی کارروائیاں تیز

اتوار 28 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دارالحکومت میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی شکایات کے ازالے اور روک تھام کے لیے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور میونسپل کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) نے مشترکہ اقدامات مزید تیز کر دیے ہیں۔

ایم سی آئی انتظامیہ کے مطابق شہریوں کی سہولت کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1334 مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے، جو 24 گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن شکایات وصول کرکے فوری کارروائی کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ شہری ڈی سی آفس پورٹل کے ذریعے بھی شکایات درج کرا سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں آوارہ کتوں کو قابو کرنے کے لیے ترامڑی میں واقع اسٹرے ڈاگ سینٹر کو فعال بنایا گیا ہے جہاں کتوں کو پکڑنے کے بعد ان کی نسبندی، حفاظتی ٹیکہ جات اور محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے جدید ٹی این وی آر (Trap, Neuter, Vaccinate, Release) طریقہ کار اختیار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں آوارہ کتوں کی بہتات، شہریوں میں خوف و ہراس

ایم سی آئی کے ریکارڈ کے مطابق جولائی سے ستمبر 2025 کے دوران اسلام آباد کے مختلف سیکٹروں، دیہی علاقوں اور مارکیٹوں سے موصولہ شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے 550 سے زائد آوارہ کتوں کو اسٹرے ڈاگ سینٹر منتقل کیا جا چکا ہے۔

یہ کارروائیاں سیکٹرز G-14، D-12، F-6، F-7، I-9، I-10، G-10، F-11 سمیت سیدپور، مارگلہ ٹاؤن، بارہ کہو اور ریڈ زون جیسے علاقوں میں بھی کی گئیں، جہاں شہریوں کی شکایات کے ازالے کو بروقت یقینی بنایا گیا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی تمام شکایات کا فوری ازالہ کیا جا رہا ہے اور آوارہ کتوں کے مسئلے کو ہر حال میں کنٹرول کرنے کے لیے حکومتی ادارے سرگرم عمل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عید سے قبل صحافیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، آر آئی یو جے

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

ون ڈے ٹیم میں ڈیبیو کرنے والے معاذ صداقت جذباتی ہوگئے، والدہ کا ذکر کرکے آبدیدہ

سعودی عرب میں آج یومِ پرچم، اسلامی شناخت اور ریاستی وقار کی علامت

بیوروکریسی کا ایک دن کی تنخواہ نہ لینا ناکافی، کفایت شعاری کے اقدامات کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے، پلوشہ خان

ویڈیو

5جی اسپیکٹرم کی نیلامی: کیا انٹرنیٹ کے مسائل ختم ہوجائیں گے؟

حکومت نوجوانوں کے لیے کیا کررہی ہے؟ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی فوکل پرسن روبینہ اعوان کا خصوصی انٹرویو

پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے بعد پرانی موٹر سائیکلوں کو الیکٹرک بنانے کا رجحان بڑھ گیا

کالم / تجزیہ

ایران سے افغان مہاجرین کی واپسی افغان طالبان کے لیے نئی مصیبت

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے