برطانوی گلوکار روبی ولیمز کا آئندہ کنسرٹ ترک حکام نے عوامی تحفظ کے پیشِ نظر منسوخ کر دیا۔ یہ کنسرٹ 7 اکتوبر کو ہونا تھا جو حماس کے اسرائیلی جنوبی علاقوں پر حملے کی دوسری برسی کے موقع پر رکھا گیا تھا۔
ترکی کی سوشل میڈیا مہمات اور غزہ کے حق میں سرگرم این جی اوز کئی دنوں سے اس تقریب کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے۔ ناقدین نے ولیمز پر صیہونیت کا حامی ہونے کا الزام لگایا اور ان کی موجودگی کو ناپسند کیا۔
یہ بھی پڑھیے: ہالی ووڈ کے 76 اداکاروں، فنکاروں کا امریکی صدر کو خط، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
51 سالہ ولیمز کو ترکی میں ایک بار پھر تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر ان کے یہودی خاندانی پس منظر اور 2015 میں اسرائیل میں ہونے والے ان کے کنسرٹ کی وجہ سے، جس پر فلسطین کے حامی گروہوں نے پہلے بھی اعتراض کیا تھا۔
ایونٹ کی ٹکٹنگ کمپنی نے اعلان کیا کہ کنسرٹ استنبول گورنر کے دفتر کی درخواست پر منسوخ کیا گیا۔ تاہم گورنر آفس نے اس معاملے پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
روبی ولیمز نے انسٹاگرام پر اپنے مداحوں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے چاہنے والوں کی حفاظت سب سے پہلے ہے، اور یہ فیصلہ ان کے اختیار سے باہر تھا۔














