حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر غور ہو سکتا ہے، پی پی کے ساتھ اتحاد ممکن نہیں، سلمان اکرم راجا

منگل 7 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری ’نورا کشتی‘ محض وقتی تماشا ہے جو چند روز میں ختم ہو جائے گی، موجودہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر غور کیا جا سکتا ہے۔

اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ اقتدار میں شراکت عمران خان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ تاہم موجودہ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی قسم کا اتحاد ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اسد قیصر بھی عدم اعتماد کی تحریک میں ووٹ دینے کی رائے دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے، پی ٹی آئی کی پیپلز پارٹی کو پیشکش

سلمان اکرم راجا نے کہاکہ اگر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے اور کوئی جماعت نئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی تو بہتر راستہ فوری عام انتخابات کا انعقاد ہے۔

انہوں نے تسلیم کیاکہ ماضی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کے انتخاب پر پارٹی کے اندر مختلف آرا تھیں، مگر اب وہ معاملہ قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

ان کے بقول بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کا مؤقف ہے کہ ملک اس وقت ہمہ گیر عوامی تحریک کا متقاضی ہے۔ پی ٹی آئی ایک بڑی سیاسی قوت ہے مگر ہمارے اتحادی رہنماؤں کا اپنا سیاسی ماضی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کا ذاتی انتخاب ہیں۔

سلمان اکرم راجا نے توشہ خانہ ٹو کیس کے حوالے سے کہا کہ جو بھی سزا سنائی جائے گی، وہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گی کیونکہ ماضی کی طرح یہ مقدمہ بھی سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔

پشاور جلسے میں بدنظمی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ اس معاملے پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ پارٹی کے سامنے رکھی جائے گی، لہٰذا اس وقت اس پر تبصرہ قبل از وقت ہوگا۔

علیمہ خان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بانیِ پی ٹی آئی عمران خان نے انہیں پیغام رسانی سے محض سیکیورٹی خدشات کے باعث روکا ہے کیونکہ ان پر متعدد مقدمات درج ہیں اور کسی بھی وقت گرفتاری کا امکان موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر علیمہ خان نہیں پہنچ سکیں تو دوسری بہن کے ذریعے عمران خان کے پیغامات ہم تک پہنچیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی اپنے گھر پر توجہ دے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے درمیان سیاسی کشیدگی جلد ختم ہو جائےگی، خواجہ آصف

ان کا مزید کہنا تھا کہ جیل ٹرائل کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا مقصد بانیِ پی ٹی آئی عمران خان کو تنہا کرنا تھا، تاہم ہم نے واٹس ایپ ٹرائل کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دی اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا۔ آخرکار پنجاب حکومت نے دباؤ میں آکر جیل ٹرائل بحال کرنے کا فیصلہ کیا، جو درست قدم تھا کیونکہ بانی کو الگ تھلگ کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہو سکی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ڈیجیٹل دور میں والدین اور بچوں کے تعلق کی نوعیت بدل چکی ہے، روبینہ اشرف

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟