اگر آپ ذہنی تھکن، شدید دباؤ، کام سے اکتاہٹ یا ہر وقت بے دلی محسوس کرتے ہیں تو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ مسائل صرف جدید دور کی پیداوار نہیں۔ تاریخ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برن آؤٹ اور ذہنی تھکن جیسی کیفیات صدیوں پہلے بھی انسانوں کو لاحق ہوتی تھیں اور قرونِ وسطیٰ کے مفکرین نے ان سے نمٹنے کے ایسے طریقے بتائے تھے جو آج بھی مؤثر سمجھے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیٹنگ ایپس صارفین کو ذہنی دباؤ کے خطرناک دائرے میں کیسے پھنساتی ہیں؟
تاریخ دان پیٹر جونز نے اپنی نئی کتاب ’سیلف ہیلپ فرام دی مڈل ایجز: اے جرنی اِن ٹو دی میڈیول مائنڈ‘ میں بتایا ہے کہ 5ویں صدی عیسوی کے مسیحی مفکر جان کیسیئن نے ایسے افراد کا ذکر کیا تھا جو مسلسل تھکن، مایوسی، کام سے بیزاری، ہر وقت سونے کی خواہش اور ذہنی الجھن کا شکار رہتے تھے۔ ان کے مطابق یہ علامات آج کے دور میں برن آؤٹ یا ڈپریشن سے بہت حد تک مشابہت رکھتی ہیں۔
پیٹر جونز کا کہنا ہے کہ انسانی جذبات وقت کے ساتھ زیادہ نہیں بدلے۔ آج جس ذہنی دباؤ کو جدید زندگی کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے اس کا سامنا صدیوں پہلے کے لوگ بھی کرتے تھے البتہ ان کے پاس اس سے نمٹنے کے مختلف طریقے موجود تھے۔
اپنے تجربے سے ملی تحقیق کی تحریک
پیٹر جونز نے بتایا کہ انہیں یہ کتاب لکھنے کا خیال اس وقت آیا جب وہ روس کے شہر تیومین میں تدریس کے لیے گئے، جہاں شدید سردی، تنہائی، زبان کی دشواری اور اہلخانہ سے دوری نے انہیں ذہنی طور پر شدید متاثر کیا۔
مزید پڑھیے: والدین آج کل پہلے سے زیادہ تھکن اور نیند کی کمی کیوں محسوس کرتے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ وہ تحقیق اور تدریس پر توجہ دینے کے بجائے کسی کام کا دل ہی نہیں کر پاتے تھے لیکن اسی دوران جب انہوں نے قرون وسطیٰ کے مذہبی مفکرین کی تحریریں پڑھیں تو انہیں احساس ہوا کہ وہی احساسات صدیوں پہلے بھی انسانوں نے بیان کیے تھے۔
قرون وسطیٰ میں ذہنی کیفیت کو کیا کہا جاتا تھا؟
اُس دور میں ذہنی بے دلی اور روحانی تھکن کو ’ایسیڈیا‘ کہا جاتا تھا جسے بعد میں 7 مہلک گناہوں میں شامل سستی سے جوڑا گیا۔ تاہم اس زمانے میں سستی کا مطلب صرف کاہلی نہیں بلکہ ایسی کیفیت تھی جس میں انسان زندگی، کام اور اپنے پسندیدہ مشاغل سے دلچسپی کھو بیٹھتا تھا۔
پیٹر جونز کے مطابق اس کیفیت کو ’روح کا خلا‘، ’دل کی بے حسی‘ اور ’محبت کی کمی‘ سے تعبیر کیا جاتا تھا، یعنی وہ تمام چیزیں جو پہلے خوشی دیتی تھیں، اچانک بے معنی محسوس ہونے لگتی تھیں۔
قرون وسطیٰ کے مطابق علاج کیا تھا؟
کتاب کے مطابق اس زمانے کے مفکرین کا ماننا تھا کہ ذہنی تھکن سے لڑنے کے بجائے پہلے اسے قبول کرنا چاہیے۔
13ویں صدی کے ایک مصنف نے لکھا کہ انسان کے اندر موجود کچھ منفی احساسات ایسے ہیں جنہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا لیکن ان کے ساتھ جینا سیکھا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ
اسی طرح مفکر ولیم پیرالڈس نے مشورہ دیا کہ انسان کو اپنی زندگی میں کسی بڑے مقصد، مضبوط رشتے یا ایسی چیز سے وابستہ رہنا چاہیے جو مشکل وقت میں اسے سہارا دے سکے۔ ان کے مطابق اگر انسان اپنے مقصد پر یقین رکھے تو مایوسی کا دور بالآخر ختم ہو جاتا ہے۔
جدید نفسیات بھی اسی بات کی تائید کرتی ہے
ماہرین کے مطابق قرون وسطیٰ کی یہ تعلیمات آج کی جدید نفسیاتی تھراپی، خصوصاً ایکسپٹنس اینڈ کمیٹمنٹ تھراپی سے کافی حد تک ملتی جلتی ہیں جس میں انسان کو اپنے جذبات قبول کرنے، ان سے غیر ضروری جنگ نہ لڑنے اور اپنی زندگی کی بنیادی اقدار کے مطابق آگے بڑھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔
خود کو معاف کرنا بھی ضروری ہے
پیٹر جونز کے مطابق 12ویں صدی کے معروف مفکر برنارڈ آف کلیروو نے زندگی کو ایک دشوار راستے پر دوڑ سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جو شخص طویل سفر طے کرے گا وہ کبھی نہ کبھی ضرور گرے گا یا ٹھوکر کھائے گا اس لیے ناکامی یا بے سمتی کے لمحات انسان کی زندگی کا فطری حصہ ہیں۔
ان کے بقول سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان خود کو معاف کرنا سیکھے اور یہ سمجھے کہ وہ اپنی مشکلات میں تنہا نہیں کیونکہ ہزاروں برس سے لوگ انہی جذبات اور آزمائشوں سے گزرتے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: قیلولہ یا دن کے وقت سونا ذہنی صحت کے لیےکیوں اچھا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ذہنی بیماریوں کا باقاعدہ علاج طبی ماہرین ہی فراہم کر سکتے ہیں تاہم تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ذہنی دباؤ، برن آؤٹ اور مایوسی جیسے احساسات ہمیشہ سے انسان کا حصہ رہے ہیں اور ان کا مقابلہ قبولیت، مقصدِ زندگی، صبر اور خود پر مہربانی کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں کیا جا سکتا ہے۔














