ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی کے پرتشدد احتجاج اور پولیس پر حملوں کے دوران لاہور پولیس کے 112 جوان زخمی ہوئے ہیں، یہ جماعت احتجاج کے نام پر انتشار چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی احتجاج کے نام پر فساد پھیلا رہی ہے، طلال چوہدری
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جب بھی ملک استحکام کی جانب بڑھتا ہے اور حالات اچھے موڈ کی جانب جاتے ہیں تو کوئی نہ کوئی گروہ خفیہ ایجنڈے کے پیچھے انتشار پیدا کرنے کے لیے کوششیں شروع کردیتا ہے۔
فیصل کامران نے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سے ایک مذہبی جماعت اپنے ایک نام نہاد ایشو کے اور احتجاج کا سلسلہ شروع کیا، ہم نے ہر ممکن طریقے سے اس سے بات کرنے کی کوشش کی اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھے تاہم مذہبی جماعت مذاکرات کی جانب نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی جماعت کے پرتشدد احتجاج میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوچکے ہیں، کچھ ابھی بھی اسپتالوں میں ہیں، کچھ کو ڈسچارج کردیا گیا ہے، بہت سے پولیس اہلکار ابھی تک لاپتا بھی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ریسکیو اہلکار بھی زخمی ہیں، لاہور پولیس کے 112 اہلکار زخمی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کے احتجاج سے ملکی معیشت کو کتنا نقصان پہنچا؟
ان کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعت کے کارکنان نے پولیس کی گاڑیاں، تھانے اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچایا، ہمارے پاس 15 کا ریکارڈ بھی موجود ہے جس میں شہری یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی گاڑیاں چھین لی گئیں، اس جتھے کے احتجاج سے عام شہریوں کی زندگی تنگ ہورہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اورینج ٹرین کے اسٹیشن کو توڑ کر فتح کا جشن منایا گیا، شاہدرہ تھانے پر حملہ کیا گیا، یہ جتھے جہاں جارہے ہیں یا جہاں جائیں گے وہاں توڑ پھوڑ کریں گے، لاہور سے ہم نے تقریباً ان کو کلیئر کردیا ہے۔
فیصل کامران نے کہا کہ ٹی ایل پی کارکنان جس نعرے اور جس جھنڈے کے نیچے یہ سب کررہی ہے، کیا وہ نعرہ اس بات کی اجازت دیتا ہے، اس نعرے کی تعلیمات ہرگز یہ نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کو اہل غزہ سے ہمدردی نہیں، احتجاج مذہبی سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے، سوشل میڈیا پر بحث
انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کی حفاظت کے لیے پولیس اور تمام ریاستی ادارے اپنا کام کرتے رہیں گے، ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے ہماری جانیں بھی حاضر ہیں۔












