قومی علماء و مشائخ کونسل کا دوسرا اجلاس آج اسلام آباد میں ہوگا

بدھ 22 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت قومی علماء و مشائخ کونسل کا دوسرا اجلاس آج (بدھ) اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔

کونسل میں ملک بھر کے تمام مسالک کے جید علمائے کرام کو نمائندگی حاصل ہے، جبکہ چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے وزرائے اوقاف و مذہبی امور بھی کونسل کا حصہ ہیں۔

کونسل کے قیام کا مقصد مختلف معاشرتی مسائل کی نشاندہی، اصلاح اور ان کے حل کے لیے علمائے کرام سے رہنمائی و مشاورت حاصل کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: مذہبی اور مسلکی رواداری کے فروغ کے لیے علما کی جانب سے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے، علامہ طاہر اشرفی

وفاقی وزیر سردار محمد یوسف نے وزارت سنبھالنے کے بعد گزشتہ دورِ حکومت میں قائم ہونے والی کونسل کو دوبارہ فعال بنایا تھا اور 4 ماہ قبل اس کا تعارفی اجلاس طلب کیا تھا۔

دوسرے اجلاس میں اسلام کی اہمیت اجاگر کرنے، معاشرے میں اس کی ترویج اور اصلاحِ احوال سے متعلق اہم امور زیر بحث آئیں گے۔ اجلاس میں طے شدہ متفقہ سفارشات کو منظوری کے بعد وزارت مذہبی امور کے ذریعے متعلقہ محکموں کو ارسال کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عالمی سیاسی صورتِ حال کیسے پاکستانی فری لانسرز اور کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے؟

نہال ہاشمی کے گورنر سندھ بننے سے صوبے اور کراچی کی سیاست میں کیا تبدیلی آئے گی؟

ایوان صدر میں قومی اعزازات کی تقریب 28 اپریل کو منعقد ہوگی، نوٹیفکیشن جاری

پشاور کے سب سے بڑے افطار دسترخوان کا مینیو: مچھلی، چھوٹا گوشت، پلاؤ، مگر یہ سب ممکن کیسے ہوتا ہے؟

کوئٹہ: رمضان المبارک کی راتوں میں کس قسم کی محفلیں سجتی ہیں؟

ویڈیو

پشاور کے سب سے بڑے افطار دسترخوان کا مینیو: مچھلی، چھوٹا گوشت، پلاؤ، مگر یہ سب ممکن کیسے ہوتا ہے؟

کوئٹہ: رمضان المبارک کی راتوں میں کس قسم کی محفلیں سجتی ہیں؟

خطے کے دفاع کے لیے پاکستان، مصر اور ترکیہ کو قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا، سفارتکار جاوید حفیظ

کالم / تجزیہ

افغانوں کی تباہی کے ذمہ دار فسادی افغان طالبان ہیں

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ