پاکستان کے دارالحکومت میں واقع اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ملک کا پہلا ہوائی اڈہ بن گیا ہے جہاں مکمل طور پر ڈیجیٹل کیش لیس آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اب ایئرپورٹ پر تمام مالی لین دین صرف ڈیجیٹل ذرائع کے ذریعے ہوں گے، اور نقد رقم کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
اس نظام کے تحت پارکنگ، فوڈ کورٹس، شاپنگ آؤٹ لیٹس، ٹکٹس اور دیگر سہولیات پر ادائیگی کارڈز، موبائل والیٹس (جیسے ایزی پیسہ، جاز کیش) یا کیو آر کوڈ اسکیننگ کے ذریعے ممکن ہوگی۔
پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے مطابق، یہ اقدام مالی شفافیت، بین الاقوامی معیار اور صارفین کی سہولت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا اعزاز، سن فلاور ربن کا اجرا
ایئرپورٹ حکام کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ کو ڈیجیٹل بزنس زون کے ماڈل پر منتقل کیا گیا ہے، جہاں تمام اسٹالز کو POS مشینوں اورQR اسکینرز سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
یہ پائلٹ پروجیکٹ متحدہ عرب امارات کے شراکت دار ادارے کے تعاون سے مکمل کیا گیا، اور آئندہ چند ماہ میں یہ ماڈل کراچی، لاہور اور ملتان ایئرپورٹس تک توسیع دیا جائے گا۔
دنیا کے کئی ممالک میں ہوائی اڈوں اور دیگر عوامی مقامات پر کیش لیس آپریشن تیزی سے رائج ہو رہا ہے۔ یہ رجحان اسکینڈے نیوین ممالک (خصوصاً سویڈن، فن لینڈ اور ناروے) سے شروع ہوا جہاں 2015 کے بعد حکومتوں نے نقدی کے استعمال کو محدود کرنے کی پالیسی اپنائی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ’ایس ایف کارگو‘ کے آپریشنز کا آغاز
سویڈن 2026 تک دنیا کا پہلا مکمل کیش لیس معاشرہ بننے کے قریب ہے۔ چین، نائیجیریا، دبئی اور ابوظہبی کے ایئرپورٹس بھی اب مکمل طور پر ڈیجیٹل ادائیگیوں پر منتقل ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اس نظام کے نفاذ سے مالی شفافیت اور کرپشن میں کمی ممکن ہوگی کیونکہ ہر ٹرانزیکشن کا ریکارڈ خودکار طور پر محفوظ رہے گا۔ مزید یہ کہ آئی سی اے او(International Civil Aviation Organization)کے جدید معیارات کے مطابق، ڈیجیٹل ادائیگی مستقبل کے ہوائی اڈوں کا لازمی جزو بن چکی ہے۔
کیش لیس ماحول مسافروں کے لیے بھی سہولت لاتا ہے، اب نوٹ یا سکے رکھنے کی ضرورت نہیں، چوری اور جعلی کرنسی کا خطرہ ختم، جبکہ ادائیگی کا عمل تیز تر ہو جاتا ہے۔ نائیجیریا کے تجربے سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ایسے نظام سے ہوائی اڈوں کی آمدنی میں 50 سے 75 فیصد اضافہ ممکن ہے۔
مزید پڑھیں: قازقستان کے نائب وزیراعظم 2 روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے
البتہ، اس نظام کے نفاذ کے ساتھ چند چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ ڈیجیٹل انحصار اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے، اگر نیٹ ورک یا سسٹم فیل ہو جائے تو پورا عمل رک سکتا ہے۔
پاکستان میں ڈیجیٹل عدم مساوات بھی ایک اہم مسئلہ ہے، کیونکہ ہر شہری کے پاس بینک اکاؤنٹ یا موبائل والیٹ موجود نہیں۔ اس کے علاوہ ڈیٹا پرائیویسی اور ڈیجیٹل ٹرانزیکشن فیس جیسے خدشات بھی موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اسلام آباد ایئرپورٹ کا کیش لیس ماڈل پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا نیا سنگِ میل بن سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت اس عمل میں ڈیجیٹل شمولیت، ڈیٹا سیکیورٹی اور صارفین کی سہولت کو اولین ترجیح دے۔
اگر یہ نظام مؤثر طریقے سے نافذ ہوا تو پاکستان عالمی ہوابازی کے جدید ترین معیارات سے ہم آہنگ ہونے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا چکا ہوگا۔












