ٹیکنالوجی کی بنیاد، سیمی کنڈکٹر

بدھ 5 نومبر 2025
author image

راحیل نواز سواتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی کی دنیا میں اگر کسی ایک ایجاد کو بنیاد کہا جائے تو وہ سیمی کنڈکٹر ہے۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جو عموماً سلیکون کو پراسس کرکے کئی مراحل سے گزارنے کے بعد تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی انفرادیت یہ ہے کہ یہ نہ مکمل طور پر بجلی کا موصل ہوتا ہے اور نہ ہی غیر موصل، بلکہ درمیانی خصوصیات رکھتا ہے۔

یہی خاصیت اسے برقی سرکٹس اور جدید الیکٹرانک آلات کے لیے مثالی بناتی ہے، جب اسے مخصوص طریقے سے بنایا جائے تو یہ لاکھوں، کروڑوں بلکہ اربوں ٹرانزسٹرز پر مشتمل ایک چِپ کی صورت اختیار کرلیتا ہے، جو ہر جدید آلے کا دماغ کہلاتی ہے۔

دنیا کا کوئی بھی جدید آلہ خواہ وہ کمپیوٹر ہو، موبائل فون، گاڑی کا سینسر، دفاعی نظام، ڈرون، مصنوعی سیارہ، صنعتی روبوٹ، بینکنگ سسٹم، طبی آلہ یا گھریلو برقی مشین، یہ سب سیمی کنڈکٹر کے بغیر ادھورا ہے۔ یہ چِپ دراصل جدید معیشت، دفاع، صنعت اور روزمرہ زندگی کے ہر پہلو میں اپنی موجودگی سے انقلاب لا چکی ہے۔

سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے 3 بڑے مراحل:

ڈیزائننگ، مینوفیکچرنگ اور ٹیسٹنگ

ڈیزائننگ میں چپ کی ساخت، رفتار اور توانائی کے استعمال کا تعین کیا جاتا ہے۔ مینوفیکچرنگ کے مرحلے میں نینو میٹر سطح پر انتہائی حساس مشینوں کے ذریعے ٹرانزسٹر تیار کیے جاتے ہیں، جبکہ ٹیسٹنگ کے دوران تیار شدہ چِپ کا معیار، رفتار اور حرارت کے لحاظ سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ ٹرانزسٹر کا سائز نینو میٹر میں ناپا جاتا ہے؛ جتنی چھوٹی چِپ ہو گی وہ اتنی ہی تیز رفتار اور کم توانائی استعمال کرنے والی ہوگی۔

ماضی میں 90 اور 45 نینو میٹر ٹیکنالوجی عام تھی، بعد ازاں 28 اور 14 نینو میٹر چِپس بنیں، پھر 7 سے 3 نینو میٹر کی جدید چِپس متعارف ہوئیں، اور اب 2 نینو میٹر کی تیاری جاری ہے۔

حال ہی میں وزیر اعظم شہباز شریف نے سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی کے شعبے میں قومی سطح پر تحقیقی اور تربیتی منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، اس اقدام کا مقصد مقامی انجینئروں کو چِپ ڈیزائننگ، ویفر ٹیسٹنگ اور مائیکرو الیکٹرانکس کے عملی کاموں سے روشناس کرانا ہے۔

یہ قدم ٹیکنالوجی کی اصل بنیاد یعنی سیمی کنڈکٹر کی تیاری کی سمت ایک درست آغاز ہے، جو مستقبل میں پاکستان کو اس میدان میں خود کفالت کی طرف لے جا سکتا ہے۔

چونکہ سیمی کنڈکٹر ایک انتہائی پیچیدہ شعبہ ہے، اس لیے دنیا کے بڑے ممالک بھی بیک وقت تینوں مراحل پر مکمل گرفت نہیں رکھتے۔ پاکستان کو طویل المدتی منصوبہ بندی کے تحت ابتدا ڈیزائننگ اور ٹیسٹنگ کے شعبوں سے کرنی چاہیے، کیونکہ ان میں نسبتاً کم سرمایہ درکار ہوتا ہے۔ جب تربیت یافتہ افرادی قوت اور تجربہ حاصل ہو جائے تو اگلے مرحلے میں مینوفیکچرنگ کی جانب پیش رفت ممکن ہوگی۔

پاکستان میں نوجوانوں کے لیے اس وقت چند روایتی، ڈیجیٹل، آئی ٹی اور فری لانسنگ جیسے متعدد کورسز دستیاب ہیں، جو انہیں روزگار کے بنیادی مواقع فراہم کرتے ہیں، تاہم اگر ان تربیتی پروگراموں میں سیمی کنڈکٹر چِپس کی ڈیزائننگ، مینوفیکچرنگ اور ٹیسٹنگ سے متعلق عملی تربیت شامل کر دی جائے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے لیے عالمی منڈی میں نئے اور وسیع مواقع پیدا کرے گا۔

بلکہ پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی اور برآمدات کے میدان میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر بھی سامنے لا سکتا ہے۔ یہی وہ سمت ہے جہاں سے پاکستان کی ٹیکنو اکانومی کی حقیقی بنیاد مضبوط ہو سکتی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صوبوں کی جانب سے 1035 ارب روپے کی گرانٹس بڑی قومی خدمت ہے، پاکستان نے خطے میں امن کے لیے تاریخی کردار ادا کیا، اسحاق ڈار

غزہ میں تعیناتی کی تیاری، مراکش کا فوجی و پولیس دستہ اسرائیل پہنچ گیا

حج 2027 رجسٹریشن کو زبردست عوامی پذیرائی، 2 روز میں 51 ہزار سے زائد درخواستیں موصول

’مولانا کی قدم بوسی کے لیے حاضر ہوتا ہوں‘، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ مکالمہ

آئینی ترمیم سے پہلے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں، بلاول بھٹو زرداری

ویڈیو

پاک ایران گیس پائپ لائن سمیت متعدد بڑے معاشی منصوبوں کی بحالی کے امکان روشن

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مشترکہ تاریخ، اعتماد اور مذہبی وابستگی پر استوار ہیں، رحمان حیات

کراچی کے شہری سندھ حکومت کی کارکردگی سے کس قدر مطمئن ہیں؟

کالم / تجزیہ

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا

جب پاکستان ہاکی نے ارجنٹائن کو عالمی فٹبال کپ جتوایا