قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ اور خوشگوار مکالمے نے ایوان کا ماحول خوشگوار بنا دیا۔
اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر مولانا صاحب کی قدم بوسی کے لیے ان کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ انتہائی احترام اور محبت کا رشتہ رکھتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے تنہائی میں جو بھی گفتگو ہوئی، وہ اس پر ایوان میں بات نہیں کریں گے کیونکہ بعض باتیں نجی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے برجستہ انداز میں کہا کہ اگر تنہائی میں کوئی بات ہوئی ہے تو وزیراعظم کو یہاں اس کا ذکر کرنے کی اجازت ہے۔
مولانا کی اس پیشکش پر مسکراتے ہوئے وزیراعظم نے جواب دیا کہ وہ یہ پیشکش قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ان باتوں کا ذکر کرنے لگے تو بات بہت دور تک چلی جائے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہونے والی تمام نجی گفتگو ایک راز ہے اور وہ ان باتوں کو کسی کے سامنے بیان نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا صاحب سے جو باتیں ہوئیں وہ ’قبر تک جائیں گی‘ اور وہ قیامت تک ان معاملات پر کسی سے گفتگو نہیں کریں گے۔
وزیراعظم کے ریمارکس پر ایوان میں قہقہے اور مسکراہٹیں بکھر گئیں جبکہ ارکان نے دونوں رہنماؤں کے دوستانہ انداز کو دلچسپی سے سنا۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکا مذاکرات کے تکنیکی دور میں شریک ہوں گے
وزیراعظم نے کہا مولانا سے تنہائی میں جو بھی گفتگو ہوئی، وہ اس پر ایوان میں بات نہیں کریں گے کیونکہ بعض باتیں نجی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اس پر مولانا فضل الرحمان نے برجستہ انداز میں کہا کہ اگر تنہائی میں کوئی بات ہوئی ہے تو وزیراعظم کو یہاں اس کا ذکر کرنے کی اجازت ہے۔@AbidJamalQazi pic.twitter.com/eoitfWpLVN
— Media Talk (@mediatalk922) June 24, 2026
جواباً مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم نے جس محبت اور احترام کا اظہار کیا ہے وہ اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کے جذبات کو سراہتے ہوئے کہا کہ باہمی احترام ہی سیاسی تعلقات کی بنیاد ہونا چاہیے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ مکالمہ ایوان کی سنجیدہ کارروائی کے دوران خوشگوار لمحہ بن گیا اور ارکان اسمبلی کی توجہ کا مرکز رہا۔














