مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بدھ 24 جون 2026
author image

محمود الحسن

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 ممتاز مزاح نگار شفیق الرحمٰن ( 2000-1920)  نے اردو ادب کے قارئین کی کئی نسلوں کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیری اور ان کی اداسی دور کی ہے۔ ہر دور میں ان کی تحریروں سے حظ اٹھانے والے بڑی تعداد میں موجود رہے ہیں۔

یوں کہیے کہ گزشتہ 85 برس سے اردو کی اقلیم مزاح میں ان کا سکہ چل رہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مسرتوں کے اس سفیر کو سنہ 1981 میں جواں سال بیٹے کی خود کشی کے جاں کاہ صدمے سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اپنے نورِ نظر کی فرقت سے زندگی اندھیر ہو گئی تھی۔

  بقول میر صاحب: اندوہ و غم کے جوش سے دل رک کے خوں ہوا

شفیق الرحمٰن کسی فلاسفر کے اس قول کے قائل تھے:

Grief is a personal thing

اور انگریزی کے اس مقولے پر بھی ان کا یقین تھا:

Everyone has to carry his own cross

اردو محاورے میں بات کی جائے تو شفیق الرحمٰن صبر کی سل سینے پر رکھے جیتے رہے۔ سو اس صدمے کے بارے میں انہوں نے زیادہ اظہار خیال نہیں کیا اور اگر کچھ کہا بھی تو ذاتی خطوط میں، اور وہ بھی اس صورت میں جب ان سے کسی نے تعزیت کی اور پرسہ دیا۔ اس کی ایک نمایاں مثال مستنصر حسین تارڑ کے نام ان کا خط ہے جو ان کی کتاب ‘خطوط’ میں شامل ہے۔

یہ کتاب شفیق الرحمٰن، محمد خالد اختر اور کرنل محمد خان کے تارڑ صاحب کے نام مکتوبات پر مشتمل ہے۔ تارڑ صاحب نے منفرد اسلوب میں تینوں ادیبوں کا خاکہ بھی اس کتاب میں شامل کیا ہے۔ ان خاکوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شگفتہ تخلیقات سامنے لانے والے ان ادیبوں کی ذاتی زندگی رنج و مِحن سے پُر رہی، جس کی وجہ سے تارڑ صاحب نے انہیں ‘تین بدنصیب دیوتا’ قرار دیا ہے۔

اب چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے شفیق الرحمٰن کے  مغموم  کر دینے والے خط کی طرف آجاتے ہیں:”آپ کا پُر شفقت خط ملا۔ ممنون ہوں۔ عزیز خلیق الرحمٰن 20ویں برس میں تھا اور اپنے پہلے سالانہ (میڈیکل کالج کے) امتحان کی تیاری کر رہا تھا۔ نہایت سیدھا سادا لڑکا تھا۔ بالکل درویش صفت۔ شاید مضبوط جسم کی وجہ سے اس کا نام joe  پڑ گیا۔ میرے بڑے بھائی جب خطوط میں اس کا ذکر کرتے تو ہمیشہ saintly joe لکھتے۔ پچھلے سال سے اس نے مونچھیں رکھ لی تھیں۔ بالکل Chestnut رنگ کی۔

یہ بھی پڑھیں: سرحدوں سے ماورا یاری: سید بابر علی اور ہرچرن سنگھ

میڈیکل کالج میں داخل ہونے سے پہلے کراچی اور راولپنڈی میں وہ میرا ورزش کا ساتھی ہوا کرتا۔ ہم لمبی سیروں پر اکٹھے جاتے۔ سٹیڈیم میں دوڑ لگاتے اور اسلام آباد کلب کے تالاب میں تیرتے۔ اس کے چلے جانے پر کبھی کبھی وہ سکاٹش دھن یاد آجاتی ہے جو دوسری جنگ عظیم میں رائل نیوی کے Destroyers  میں سنی تھی۔ جب جہاز steam off  کرتا تو دوسرے ساکن جہاز کا بینڈ یہ لائنز بجاتا:

Will ye no come back again?

 Will ye no come back again?

Better lo’ed ye canna be,

 Will ye no come back again?”

تارڑ صاحب کے نام اس خط سے غم زدہ باپ نے اپنے رنج فراواں کے تذکرے کے ساتھ ساتھ فرزندِ دلبند کی شخصیت کا تعارف بھی کروایا ہے۔

تارڑ صاحب نے شفیق الرحمٰن کے خاکے میں دل سوزی سے قصہ درد بیان کیا ہے۔ ان کے بقول ”وہ دراصل بیٹے کے ساتھ رخصت ہو گئے تھے۔“

ممتاز ادیب محمد خالد اختر کی شفیق الرحمٰن سے بچپن کی دوستی تھی۔ تارڑ صاحب نے شفیق الرحمٰن اور ان کی اہلیہ سے ملاقات کا احوال خالد اختر کے نام خط میں بیان کیا تو انہوں نے 12 فروری 1998 کو جوابی خط میں لکھا: ’تمھارے خط میں یہ فقرہ ‘وہ دونوں میاں بیوی بہت تنہا اور ترسے ہوئے لگے۔’ اپنے دلی دوست (شفیق الرحمٰن) کی تصویر میرے سامنے لے آیا۔ درد کی لہر میرے بدن میں تیر گئی۔ وہ مجھے اکثر لکھا کرتا ہے کہ وہ وہاں اکیلا ہے اور اس کا وہاں کوئی دوست نہیں۔ اصل میں اپنے منجھلے ہونہار بیٹے خلیق کی موت کے بعد وہ ٹوٹ پھوٹ گیا تھا۔ ادھر بھابھی امینہ بھی پچھلے 6 برس سے ایک ایسے لاعلاج عارضے میں مبتلا ہیں جس کی تشخیص نہیں ہو سکی۔

مستنصر حسین تارڑ کی تحریر سے یہ دل دوز خبر بھی ملتی ہے کہ شفیق الرحمٰن کی زندگی میں ہی ان کے چھوٹے بیٹے امین الرحمٰن نے بھی کنپٹی پر گولی چلا کر خود کشی کی کوشش کی تھی، جس میں جان تو بچ گئی لیکن اس کی بینائی تقریباً ختم ہو گئی تھی۔ اس نے شفیق الرحمٰن کے انتقال کے بعد اپنی جان لے کر دم لیا۔ کیسی قابلِ رشک اٹھان تھی جوانوں کی اور زندگی کا کیسا الم ناک اختتام ہوا۔

مزید پڑھیے: فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے ’شفیق الرحمٰن شخصیت و فن‘ میں لکھا: ’شفیق الرحمٰن کے اس مثالی گھرانے کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ چہکتا مہکتا گھرانہ ماتم کدے میں تبدیل ہوتا گیا‘۔

شفیق الرحمٰن کی اولاد میں اب ان کے سب سے بڑے بیٹے عتیق الرحمٰن ہی زندہ ہیں۔

مستنصر حسین تارڑ کی کتاب سے ہٹ کر شفیق الرحمٰن کی داستان غم ڈاکٹر صفیہ بانو کے نام خطوط میں محفوظ ہے، جو کراچی کے ایک کالج میں استاد تھیں  اور ‘انجمن پنجاب، تاریخ و خدمات’ کی مصنفہ ۔ مبین مرزا کی زیر ادارت مکالمہ ،کراچی (جون ۔۔۔۔۔۔۔ستمبر 2000 ) میں انہوں نے شفیق الرحمٰن کے خطوط ڈاکٹر جمیل جالبی کی تحریک پر شایع کروائے تھے۔

 

شفیق الرحمٰن کے یہ خطوط ان کے ٹوٹے ہوئے دل کے درد انگیز نالے ہیں۔ اس میں انہوں نے مختلف حوالوں سے درد کی شرح لکھی ہے اور ڈاکٹر صفیہ بانو جب کسی صدمے اور تکلیف سے گزری ہیں تو ان کی غم گساری اور چارہ سازی بھی کی ہے۔ ان کو طبی مشورے بھی دیے۔ ان کے ادبی کام کو سراہا ہے اور لکھنے کے بارے میں ان کی رہنمائی کی۔

ان خطوط سے مرحوم خلیق الرحمٰن کے نام کی وجہ تسمیہ بھی معلوم ہوتی ہے: ’جب وہ پیدا ہوا تو میرے چچا نے، جو ہمارے سب سے بڑے بزرگ تھے، ایک برس تک انتظار کیا کہ بچے کی عادتیں دیکھ کر نام تجویز کروں گا، تب خلیق الرحمٰن نام رکھا گیا‘۔

شفیق الرحمٰن نے غم زدہ بیوی کا حوالہ بھی جگہ جگہ دیا ہے جنہیں بیٹے کی مفارقت نے نڈھال کر دیا تھا: ’میں امینہ کو سمجھاتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہمارے پاس فقط اتنے عرصے کے لیے بھیجا تھا‘۔

’امینہ نے بھی اسی سال 14 مارچ کو خلیق الرحمٰن مرحوم کا برتھ ڈے منایا، یعنی اس کی پسندیدہ چیزیں پکوائیں، برتھ ڈے کارڈ لے کر قبر پر گئی، جو روپے اسے دینے تھے، بانٹے اور کہتی رہی کہ آج وہ ہوتا تو 20 برس کا ہوتا‘۔

صاحبو! مہدی افادی  نے لکھا تھا کہ بعض حوادث لائقِ صبر نہیں ہوتے، اس رعایت سے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بعض زخموں پر وقت بھی مرہم کا کام نہیں دیتا۔

شفیق الرحمٰن کو امید تھی کہ غم کا یہ زور رفتہ رفتہ کم ہو گا لیکن یہ ہو نہ سکا : ’اگرچہ غم کا تاریک سایہ اسی طرح مسلط ہے۔ امید ہے کہ گزرتا ہوا وقت اس شدید احساسِ محرومی کو blunt کرنے میں مدد دے گا‘۔

’کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک سال کے بعد کچھ فرق محسوس ہونے لگتا ہے اور غم کی شدت میں کمی ہونے لگتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

’دل کے اندھیرے میں مزاح لکھنا بہت مشکل ہے۔ بہرحال کوشش جاری ہے۔ ایک مضمون فکر تونسوی پر لکھا ہے جو اردو پنچ کے سال نامے میں چھپے گا۔ اس سے پہلے اردو پنچ کے شمارہ نمبر تین میں کام چور بھوت شامل ہے‘۔

اس غم کے جھیلنے کی ہی تاب نہیں تھی، اوپر سے خاندان میں دیگر اموات سے یہ درد کچھ اور بھی سوا ہوتا رہا۔ ہارون آباد میں جوان بھتیجی کے انتقال نے بیٹے کی موت کا زخم تازہ کر دیا۔ دونوں کزن شگفتہ رو تھے۔

ان کی اس صفتِ خاص کے بارے میں شفیق الرحمٰن نے لکھا: ’سارے کنبے میں فقط یہ لڑکی نصرت اور سدھارنے والا منجھلا بیٹا خلیق۔ یہ دو تھے جو ہر وقت ہنستے رہتے تھے، کسی اجنبی سے بھی بات کرتے تو مسکرا کر۔ اب یہ دونوں نہیں رہے‘۔

مزید پڑھیں: عورت کو آسان ہدف سمجھنے والے کمزور

ایک خط میں لکھا کہ وہ خلیق کے ساتھ ساتھ اپنے بڑے بھائی کو بھی روزانہ یاد کرتے ہیں جو ان کے والد کی جگہ بھی تھے اور بے تکلف دوست بھی۔ اس غم میں پھر چھوٹے بھائی کی جدائی کی شرکت بھی ہو گئی ہے جسے بچپن میں انہوں نے گود میں کھلایا تھا۔

ڈاکٹر صفیہ بانو کے بھائی کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا اور لکھا کہ ایسی جوانا مرگ پر تسلی و تشفی کے تمام الفاظ بیکار ہیں:

As if the sun has set at mid noon

ان کی والدہ کے انتقال پر لکھا ’آپ کی والدہ صاحبہ کی رحلت کا صدمہ نہایت شدید تھا، جیسے سارے Irreversible صدمے ہوتے ہیں‘۔

بچپن میں ایک لڑکے سے سنی منظوم کہانی کے بول مع ترجمہ بھی ایک خط میں منقول ہیں:

کت ابڑا، کت آمڑی

 کت سرور کت نیر

جوں جوں پڑے اوستا

توں توں سہے سریر

 (کہاں باپ گیا؟ اور کہاں ماں گئی؟ بچوں کا بھی پتا نہیں کہ کدھر ہیں۔ جوں جوں مصیبت پڑتی ہے توں توں جسم سہتا ہے)۔

اس طرح کہیں کہیں اردو شعر بھی درج کرتے ہیں۔ ایک خط میں ادا جعفری کا شعر نقل کیا ہے:

 کچھ سوچ کے کہنا کہ ہر اک حرفِ تسلی

 تازہ ہو اگر زخم تو پیکاں سا لگے ہے

ایک جگہ جوش کا یہ شعر رقم کیا:

کس کو آتی ہے مسیحائی کسے آواز دوں

 بول اے خوں خوار تنہائی کسے آواز دوں

 ان کی دانست میں حساس لوگ ہمیشہ گھاٹے میں رہتے ہیں جب کہ بے حس فائدے میں۔ حساس لوگ ان کے خیال میں شکسپیئر کے اس کردار کی طرح ہوتے ہیں جس نے کہا تھا:

I have suffered with every suffering being

شیکسپیئر کے اصل الفاظ غالباً کچھ یوں ہیں:

(I have suffered with those that I saw suffer)

ان خطوط میں انہوں نے غم کی قسموں میں سے سب سے شدید غم کی صراحت اپنے والد سے سنے ایک واقعے کے ذریعے کی ہے:

’سب سے شدید وہ غم ہے جو ساری عمر رہتا ہے۔ اس پر مجھے قبلہ والد صاحب مرحوم کا سنایا ہوا واقعہ یاد آ گیا۔ جب وہ طالب علم تھے تو مسجدوں میں کلاک ٹائم پیس وغیرہ نہیں ہوتے تھے۔ رمضان شریف میں ایک سیاہ بادلوں سے گھری ہوئی اندھیری شام کو لوگوں کے کہنے پر مولوی صاحب نے اذان دے دی اور روزہ کھلوا دیا۔ جب وہ نماز پڑھا رہے تھے تو بادلوں کے ایک گوشے سے ذرا دیر کے لیے کرن پھوٹی۔ لوگوں نے بہتیرا سمجھایا کہ آپ نے good faith میں اور سب کے کہنے پر اذان دی تھی لیکن مولوی صاحب جب تک زندہ رہے روزے رکھتے رہے۔ سو یہ ساری عمر رنج برداشت کرنے والی بات ہے’۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp