جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کا سیاسی ایجنڈا تھا، ہمارا مؤقف درست ثابت ہوا، رانا ثنااللہ

جمعرات 13 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفوں سے ہمارا مؤقف درست ثابت ہوگیا کہ ان کا ذاتی اور سیاسی ایجنڈا تھا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ استعفیٰ دینے والے ججز لائق احترام ہیں، تاہم دونوں ججز نے اپنے خط میں سیاسی تقریر کی ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی

انہوں نے کہاکہ جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ نے سیاسی اور ذاتی ایجنڈا پورا نہ ہونے پر احتجاج کیا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ بتایا جائے کیا دلیل ہے کہ آئین پر حملہ ہوگیا اور عدالت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی، ہمارے ججز کے فیصلے کم بولتے ہیں جبکہ یہ خود زیادہ بولتے ہیں۔

مشیر وزیراعظم نے کہاکہ سپریم کورٹ کے مستعفی ججز کے خطوط میں جو کچھ لکھا گیا وہ ایک ایک لفظ سیاست پر مبنی ہے، دونوں نے سیاسی تقریر کی۔

انہوں نے کہاکہ ججز ملک اور حکومت کو چلنے دیں، اور سیاست سیاستدانوں کے لیے چھوڑ دیں، سپریم کورٹ کو کیسے توڑا گیا، ججز اس کی نشاندہی کرتے۔

رانا ثنااللہ نے کہاکہ ہمارے ملک میں کیا نہیں ہوا، یہی ججز وزرائے اعظم کی چھٹی کراتے رہے، آئین میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے جو کوئی نہیں چھین سکتا۔ جو جج از خود نوٹس سے وزیراعظم کو فارغ کرے کیا وہ آزاد اور انصاف پسند ہو سکتا ہے؟

انہوں نے کہاکہ نئی ترمیم کے بعد اب جج کے تبادلے کے وقت متعلقہ ہائیکورٹس کے چیف جسٹس بیٹھیں گے۔

انہوں نے کہاکہ 27ویں ترمیم کی منظوری کے بعد اب جوڈیشل کمیشن موجود نہیں، اب وفاقی آئینی عدالت بنائی جائے گی، اور پہلے چیف جسٹس کی تعیناتی وزیراعظم کی ایڈوائس پر کی جائےگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ استعفوں اور ججز کے مؤقف کے بارے میں فیصلہ صدر مملکت کریں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ صدر مملکت وفاق کی علامت ہوتا ہے، اس لیے اس عہدے کو استثنیٰ دیا گیا جس میں کوئی برائی نہیں۔

مزید پڑھیں: لا اینڈ جسٹس کمیشن کے رکن مخدوم علی خان بھی مستعفی

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کو آئین پر حملہ قرار دیتے ہوئے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جبکہ لا اینڈ جسٹس کمیشن کے رکن مخدوم علی خان بھی مستعفی ہو گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب میں غیر مسلم تارکینِ وطن رمضان کیسے گزاریں؟

پاک افغان سرحد پر کشیدگی: چمن میں ایمرجنسی نافذ، طبی مراکز ہائی الرٹ

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟