27ویں آئینی ترمیم کیخلاف احتجاجاً لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا بھی مستعفی

ہفتہ 15 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کے 2 سینیئر ججز کے استعفے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شمس محمود مرزا نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، 27ویں آئینی ترمیم کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا نے احتجاجاً استعفیٰ پیش کیا۔ جسٹس شمس محمود مرزا نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت کو بھجوا دیا اور اپنے چیمبر کو خالی کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی

رپورٹس کے مطابق، جسٹس شمس محمود مرزا کا 27ویں آئینی ترمیم کے بعد تبادلے کا امکان تھا۔ وہ لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی کے بھی رکن تھے۔

جسٹس شمس محمود مرزا نے 22 مارچ 2014 کو لاہور ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج حلف اٹھایا تھا اور ان کی ریٹائرمنٹ 2028 میں متوقع تھی۔

واضح رہے کہ جنوری میں ان کے خلاف سرکاری وکیل کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھی دائر کیا گیا تھا۔ جسٹس شمس محمود مرزا، سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ضیا محمود مرزا کے صاحبزادے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم