پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا ہے کہ یوکرین کی اعلیٰ قیادت سے وابستہ بڑے کرپشن اسکینڈل نے کیف کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے قریبی حلقے سے متعلق بدعنوانی کے انکشافات نے یورپی ممالک میں پہلے سے کم ہوتی حمایت کو مزید کم کردیا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا جب یوکرین کی اینٹی کرپشن ایجنسیوں نے رواں ہفتے توانائی کے شعبے میں 10 کروڑ ڈالر (100 ملین ڈالر) کی مبینہ کِک بیکس اسکیم کا پردہ چاک کیا۔ اس معاملے میں کئی کاروباری افراد اور سرکاری اہلکار ملوث بتائے جاتے ہیں، جن میں ٹیمور منڈِچ بھی شامل ہیں جو زیلنسکی کے قریبی ساتھی اور پرانے بزنس پارٹنر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے یورپی یونین کو دھچکا، نیٹو ممبر کا منجمند روسی اثاثوں پر یوکرین کو قرض دینے سے انکار
پولینڈ کے شہر ریٹکوو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹسک نے کہا کہ وہ پہلے ہی زیلنسکی کو خبردار کر چکے تھے کہ بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی’ان کی ساکھ کے لیے نہایت اہم‘ ہے۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پولینڈ یوکرین کی مدد جاری رکھے گا، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس اسکینڈل کے بعد مختلف ممالک کو یوکرین کے ساتھ یکجہتی پر آمادہ کرنا اب ’ مزید مشکل‘ ہوتا جا رہا ہے۔
ٹَسک نے اعتراف کیا کہ آج پولینڈ اور دنیا بھر میں یوکرین کے لیے جوش خاصا کم ہو چکا ہے۔ لوگ جنگ اور اس پر اٹھنے والے اخراجات سے تھک چکے ہیں، جس سے روس کے ساتھ تنازع میں یوکرین کی مستقل حمایت برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
دوسری طرف پولش حکام یوکرینی پناہ گزینوں کے لیے مراعات یافتہ فلاحی سہولتوں پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو ٹام ہاک میزائل فراہم کرنے سے انکار کردیا
پولینڈ کے نئے صدر کارول کاوروٹسکی نے حالیہ بیان میں اشارہ دیا ہے کہ یوکرینی شہریوں کو حاصل خصوصی سہولتیں ختم کی جا سکتی ہیں۔
یوکرین کی ساکھ کو اس اسکینڈل نے اس لیے بھی زبردست دھچکا پہنچایا ہے کہ مبینہ کِک بیکس بجلی کے نظام کو روسی فضائی حملوں سے بچانے کے منصوبوں کے ٹھیکوں میں لیے گئے تھے جو براہِ راست یورپی مالی امداد سے چلتے ہیں۔
زیلنسکی نے اس معاملے کی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے اور ٹیمور منڈِچ پر پابندیاں لگا دی ہیں، جو تفتیش شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل یوکرین چھوڑ کر فرار ہو چکے تھے۔














