دبئی ایئرشو کے دوران بھارت کے تیار کردہ ہلکے لڑاکا طیارے تیجاس کے حادثے نے عالمی سطح پر بھارت کی دفاعی ٹیکنالوجی کی ساکھ کو دھچکا پہنچایا ہے۔
حادثے میں پائلٹ وِنگ کمانڈر نامنش سیال جان سے ہوگئے، جبکہ طیارے کی تباہی نے اس منصوبے کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی جنگی طیارہ گر کر تباہ، پائلٹ ہلاک
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو پیش آنے والے اس واقعے کی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آسکی، تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے بین الاقوامی شو میں حادثہ بھارت کی برآمدی کوششوں کو شدید متاثر کرے گا۔
امریکا کے مچل انسٹی ٹیوٹ کے ڈگلس برکی نے رائٹرز کو بتایا کہ ‘ایسے ایئر شو حادثات کسی بھی ملک کے دفاعی بیانیے پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔’
رپورٹ کے مطابق تیجاس پروگرام 1980 کی دہائی میں روسی ساختہ میگ-21 کی جگہ لینے کے لیے شروع ہوا تھا۔ لیکن انجن سپلائی سمیت مختلف تکنیکی مسائل کے باعث تیاریاں مسلسل تاخیر کا شکار رہیں۔ ہندوستان ایئرو اسپیس لمیٹڈ کے مطابق 180 جدید Mk-1A طیارے ملکی فضائیہ کے لیے آرڈر پر موجود ہیں لیکن سپلائی چین مسائل کے سبب ڈیلیوری ابھی شروع نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیے: تیجاس کی تباہی، بھارت کی مجموعی دفاعی صلاحیتوں پر بھی سوال اٹھ گئے
سابق حکام کا کہنا ہے کہ دبئی حادثہ ’فی الحال برآمدات کے امکان کو تقریباً ختم کر دیتا ہے‘۔
بھارتی فضائیہ 42 کے بجائے صرف 29 اسکواڈرنز پر مشتمل رہ گئی ہے اور میگ-29، جیگوار اور میراج 2000 جیسے پرانے طیاروں کی ریٹائرمنٹ نے خلا مزید بڑھا دیا ہے۔ اسی لیے بھارت فوری ضرورت پوری کرنے کے لیے رافال جیسے اضافی غیر ملکی طیاروں کی خریداری پر غور کر رہا ہے۔














