چین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کے ذیلی گروہ مجید بریگیڈ کو جلد از جلد اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے قائم مقام ناظم الامور سن لی نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کوششوں میں بھرپور تعاون کی اپیل بھی کی۔
یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ‘دہشتگردانہ کارروائیوں سے عالمی امن اور سلامتی کو لاحق خطرات’ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر کے رکن ممالک نے دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز اور ان سے نمٹنے کے لیے عالمی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال کیا۔
اجلاس میں چین کی مستقل مندوب کے قائم مقام سربراہ سن لی نے چینی حکومت کا مؤقف پیش کیا۔
خیال رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے کالعدم بی ایل اے اور اس کے عسکری ونگ مجید بریگیڈ کو ملکی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے اور اسلام آباد بارہا عالمی برادری سے اس تنظیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔
افغانستان میں دہشتگردی، خطے کے لیے سنگین خطرہ
چینی مندوب سن لی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ افغانستان اور اس کے ہمسایہ ممالک دونوں کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں اور داعش خراسان (آئی ایس-کے) سرحد پار حملے کرنے کی اپنی صلاحیت اور عزم میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔
انہوں نے افغان طالبان انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اپنی انسدادِ دہشتگردی کے وعدوں کی پاسداری کرے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت درج تمام دہشتگرد تنظیموں اور افراد کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کارروائی اس لیے ناگزیر ہے تاکہ افغانستان دوبارہ دہشتگردی کی محفوظ پناہ گاہ نہ بن سکے۔
معاشی بحالی اور علاقائی تعاون پر زور
چینی سفارتکار نے کہا کہ عالمی برادری کو افغانستان کی معاشی بحالی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے مدد فراہم کرنی چاہیے تاکہ دہشتگردی کی بنیادی وجوہات کا سدباب کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں:بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر امریکی پابندیاں، کیا اب دہشتگردوں کو حاصل بھارتی حمایت ختم ہو پائےگی؟
انہوں نے وسطی ایشیائی ممالک، شنگھائی تعاون تنظیم جیسے علاقائی اداروں اور افغانستان کے مابین سرحد پار دہشتگردی کے خطرات کے خلاف مشترکہ تعاون کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
جدید ٹیکنالوجی کا دہشتگردی میں غلط استعمال
سن لی نے خبردار کیا کہ دہشتگرد تنظیمیں انٹرنیٹ، مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو اکسانے، بھرتی، فنڈنگ اور حملوں کے لیے تیزی سے استعمال کر رہی ہیں، جو عالمی انسدادِ دہشتگردی کوششوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری کی ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو جدید ٹیکنالوجیز کی نگرانی مضبوط بنانے اور خطرات کی جانچ اور ریگولیٹری نظام کو بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
چینی مندوب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پرتشدد دہشتگردی، نسلی علیحدگی پسندی اور مذہبی انتہا پسندی، جنہیں چین ‘تین قوتیں’ قرار دیتا ہے، کو ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے سے روکا جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں:بی ایل اے اور مجید بریگیڈ پر پابندی بڑی کامیابی، اقوام متحدہ میں بھی مؤقف اٹھائیں گے: بلاول بھٹو
انہوں نے ترقی پذیر ممالک کو ٹیکنالوجی کی منتقلی، آلات، تکنیکی معاونت، تربیت اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے ذریعے زیادہ مدد فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ ان کی انسدادِ دہشتگردی صلاحیتیں مضبوط ہو سکیں۔
کالعدم بی ایل اے کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کا مطالبہ
چینی مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کو قراردادوں 1267 اور 2713 کے تحت قائم پابندیوں کے طریقہ کار کو مکمل طور پر بروئے کار لانا چاہیے۔
انہوں نے واضح مطالبہ کیا کہ بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے ذیلی ونگ مجید بریگیڈ کو جلد از جلد پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا جائے تاکہ عالمی انسدادِ دہشتگردی کوششوں کو تقویت مل سکے۔
پاکستان میں حالیہ خودکش حملے کی مذمت
سن لی نے پاکستان میں حالیہ خودکش حملے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس حملے میں شہری شہید اور زخمی ہوئے، جس کی چین شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی کوششوں میں بھرپور تعاون فراہم کرے۔
دہشتگردی کا خطرہ بدستور سنگین
چینی مندوب نے کہا کہ بین الاقوامی دہشتگردی کا خطرہ اب بھی پیچیدہ اور سنگین نوعیت کا حامل ہے۔
ان کے مطابق دہشتگرد حملوں کا سلسلہ جاری ہے اور دہشتگرد تنظیمیں اپنی آپریشنل صلاحیتوں میں مسلسل بہتری لاتے ہوئے علاقائی تنازعات کا فائدہ اٹھا کر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں، جو عالمی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی مون شاٹ اے آئی کا نیا ماڈل ‘کیمی کے 3‘ لانچنگ کے لیے تیار، خاص بات کیا ہے؟
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مشترکہ، جامع، باہمی تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے نئے تصور کو اپنائے۔
سن لی نے دہشتگردی کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی اپنانے پر زور دیتے ہوئے انسدادِ دہشتگردی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے رجحان کے خلاف بھی خبردار کیا، اور عالمی کوششوں کی مؤثریت بڑھانے کے لیے زیادہ یکجہتی اور تعاون کی اپیل کی۔














