افغان دہشتگرد رحمان اللہ لکنوال امریکا کیسے پہنچا؟

جمعرات 27 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان دہشتگرد رحمان اللہ لکنوال جو وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے 2 ارکان پر فائرنگ کے واقعے میں مبینہ ملزم ہیں، 2021 میں امریکی بائیڈن انتظامیہ کے افغان ری سیٹلمنٹ پروگرام کے تحت امریکا منتقل ہوئے تھے۔

ریپبلکن قانون سازوں نے برسوں پہلے خبردار کیا تھا کہ اس پروگرام میں سکیورٹی خلا کے باعث امریکی شہری خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا امریکیوں پر حملہ آور افغان دہشتگرد سی آئی اے کے لیے خدمات انجام دیتا رہا؟

سالہ 29 لکنوال ’آپریشن الائز ویلکم‘ کے تحت ستمبر 2021 میں امریکا پہنچے اور بیلنگھم، واشنگٹن میں آباد ہوا۔ امریکی ذرائع کے مطابق یہ پروگرام افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران شروع کیا گیا اور تقریباً 90,000 افغان شہریوں کو امریکا منتقل کیا گیا، جن میں سے کچھ کو عارضی قانونی حیثیت دی گئی تاکہ وہ امریکا میں قانونی طور پر رہائش اختیار کر سکیں اور کام کر سکیں۔

ریپبلکن قانون سازوں نے اس پروگرام کے آغاز سے ہی سیکیورٹی اسکریننگ کے ناقص ہونے کی نشاندہی کی تھی۔ سینیٹر جونی ارنسٹ نے 2021 میں لکھا تھا کہ افغان شہریوں کو امریکا لانے کے لیے بائیڈن انتظامیہ کی سکیورٹی جانچ غیر واضح اور ناکافی ہے، اور ممکنہ دہشتگرد کو امریکا میں داخل ہونے سے روکنے میں ناکام رہی۔

یہ بھی پڑھیں:وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ، امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکنوال کے حملے کو ’دہشتگردانہ کارروائی‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدام امریکی فوجیوں اور پوری قوم کے خلاف ایک جرم ہے۔

اس واقعے کے بعد ایف بی آئی تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا حملہ بین الاقوامی دہشتگردی سے متعلق تھا اور یہ واقعہ بائیڈن دور کے افغان ری سیٹلمنٹ پروگرام میں موجود سیکیورٹی کمزوریوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’آپریشن کردیا، پھر کہا خاتون حاملہ ہی نہیں تھیں‘، کراچی کے اسپتال میں بچے کے غائب ہونے کا عجیب واقعہ

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس، اہم ہدایت نامہ جاری

لداخ میں احتجاج روکنے کے لیے بھارت کی بڑی فوجی پیش قدمی، پیرا ملٹری فورسز کی 12 کمپنیاں تعینات

ملائیشیا میں روہنگیا پناہ گزینوں کے خلاف نفرت کی نئی لہر، بچوں کے اسکول بھی زد میں

27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواست، سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے وصول کرنے سے انکار کردیا

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ