امریکی شہریوں کے غیر ملکی شریک حیات کو گرین کارڈ انٹرویوز کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے، جس سے کئی نئے شادی شدہ جوڑوں کی امریکی زندگی میں امیدیں ادھوری رہ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کی سخت گیر پالیسی کا نفاذ، گرین کارڈ ہولڈرز سمیت تمام تارکین وطن کی کڑی نگرانی کا فیصلہ
مقامی میڈیا کے مطابق 12 نومبر سے سان ڈیاگو کے امیگریشن دفتر میں درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا، جن پر ویزا قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات بھی لگائے گئے۔
گرین کارڈ، یا مستقل رہائش کارڈ، غیر ملکی کو امریکا میں مستقل طور پر رہنے اور کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم سان ڈیاگو میں ہونے والے انٹرویوز نے نئے شادی شدہ جوڑوں کی توقعات کے برعکس نتیجہ دیا۔

گرفتار شدگان میں برطانوی اور جرمن شہری، اور حتیٰ کہ 5 ماہ کے بچے کی ماں بھی شامل تھی۔ ہر انٹرویو کے بعد وفاقی اہلکار شریک حیات کو ہاتھکڑیاں لگا کر لے گئے۔
برطانوی شہری کی بیوی کی گرفتاری کے بعد شوہر اسٹیفن پال نے کہا کہ مجھے اپنے روتے ہوئے بچے کو اپنی بیوی کی بانہوں سے لینا پڑا، یہ ہمارا خاندان چھین لینے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ویزا اور گرین کارڈ کے قواعد مزید سخت کردیے گئے
گرفتار شدگان میں کچھ فوجی تجربہ کار شہریوں کے شریک حیات بھی شامل تھے، جس سے ان میں دھوکہ اور مایوسی کی کیفیت پیدا ہوئی۔
یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت تیسری دنیا کے ممالک سے امیگریشن کو محدود کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

امریکی امیگریشن اور کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے مطابق تمام غیر ملکی جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے، چاہے ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہو۔
یہ واقعہ امریکی امیگریشن قوانین کی سختی اور غیر ملکی شریک حیات کے حقوق کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔













