پی ٹی آئی کے کارکن احتجاج کے لیے کیوں نہیں نکل رہے؟

ہفتہ 29 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے پی ٹی آئی قیادت، عمران خان کی بہنیں، قانونی ٹیم اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی متعدد بار اڈیالہ جیل جا چکے ہیں، تاہم ان کی ملاقات نہیں ہو سکی۔ عمران خان کی قانونی ٹیم سے آخری ملاقات 16 اکتوبر کو ہوئی تھی، جس کے بعد صرف عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کو 4 نومبر کو ملاقات کی اجازت ملی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی کوششیں

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی منتخب ہونے کے بعد عمران خان سے ملاقات کے لیے 8 مرتبہ اڈیالہ جیل پہنچ چکے ہیں لیکن ان کی ایک بار بھی ملاقات نہیں ہو سکی۔ ملاقات نہ ہونے کے باعث عمران خان کی بہنیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی قیادت و اپوزیشن رہنما اڈیالہ جیل کے باہر موجود رہتے ہیں، لیکن گھنٹوں دھرنے کے باوجود ملاقات ممکن نہیں ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی اڈیالہ کا مجاور ہے، عظمیٰ بخاری وزیر اطلاعات پنجاب

اس دوران کارکنان سامنے نظر نہیں آتے؛ وہ چند منٹ کے لیے تو آتے ہیں، لیکن طویل دھرنوں میں صرف عمران خان کی بہنیں اور وزیراعلیٰ ہی نظر آتے ہیں۔

وی نیوز نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطہ کیا تاکہ یہ جانا جا سکے کہ دھرنوں میں صرف قائدین اور عمران خان کی بہنیں کیوں ہوتی ہیں؟ کارکنان کیوں متحرک نظر نہیں آتے؟

کارکنان کو کال ہی نہیں دی گئی، لطیف کھوسہ

پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ابھی تک کارکنان کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی باضابطہ کال نہیں دی، اس لیے کارکنان کی کم تعداد کو ناکامی قرار دینا قبل از وقت ہے۔ جب بھی پارٹی کال دے گی تو کارکنان بڑی تعداد میں آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور کابینہ ہونے کے باوجود عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کہہ چکے ہیں کہ اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کرانا حکومت کے اختیار میں نہیں ہے۔

کارکنان کو منع کیا جاتا ہے، شاہد خٹک

پی ٹی آئی رہنما شاہد خٹک نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کارکنان رہنماؤں سے ملاقات کی کوششوں میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں، لیکن رہنما انہیں منع کرتے ہیں کیونکہ اڈیالہ جیل کے باہر کارکنان پر تشدد بھی ہوتا ہے اور گرفتاریاں بھی۔ پی ٹی آئی نہیں چاہتی کہ کارکنان کو بلا وجہ گرفتار کرایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:راولپنڈی میں دھرنا ختم، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی آج پھر ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے

انہوں نے کہا کہ پارٹی کو خدشہ ہے کہ اگر کارکنان بڑی تعداد میں جمع ہوئے تو کوئی شرارت کر سکتا ہے، جس سے دوبارہ کوئی 9 مئی جیسے واقعے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، اسی لیے پارٹی انتہائی محتاط حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

صرف ارکان اسمبلی کو بلایا جاتا ہے

شاہد خٹک کے مطابق عمران خان سے ملاقات کے دن صرف ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو اڈیالہ جیل آنے کی ہدایت کی جاتی ہے کیونکہ پولیس ارکان اسمبلی کو گرفتار نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی ایک مرتبہ کارکنان کو کال دے دے تو اڈیالہ جیل کے اطراف بھر جائیں گے، لیکن پی ٹی آئی کسی بھی شرپسند کو موقع فراہم نہیں کرنا چاہتی۔

سہیل آفریدی کا دھرنا اور آئندہ لائحہ عمل

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دیا لیکن ملاقات نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے خلاف وہ پہلے ہی ہائی کورٹ سے رجوع کر چکے ہیں۔ اگر منگل کو بھی ملاقات نہ کرائی گئی تو ممکن ہے کہ وہ کارکنان کے ہمراہ اڈیالہ جیل آئیں۔

پارٹی کی خاموشی اور سیاسی سوالات

وزیراعلیٰ کے اس اعلان کے باوجود پی ٹی آئی کی جانب سے کارکنان کو متحرک کرنے کی کوئی باضابطہ ہدایت جاری نہیں کی گئی۔ اسی لیے سیاسی حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ آیا واقعی پارٹی کو کارکنان کو جمع کرنے میں مشکلات ہیں یا یہ صرف حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

صدر اور وزیراعظم پاکستان کا عالمی یومِ یکجہتیِ فلسطین پر مشترکہ اظہارِ حمایت

اسرائیلی فوجیوں کا گرفتاری دینے والے 2 فلسطینیوں کو قتل کرنے کا واقعہ، ویڈیو منظرعام پر آگئی

صدرِ پاکستان کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کا دورہ، قومی سلامتی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب

نیدرلینڈز میں بڑھتے سیلاب اور رہائش کی کمی کے درمیان تیرنے والے گھروں کی مانگ میں اضافہ

سعودی عرب میں عالمی یگانگت 2 کے تحت یمن کے ثقافتی دن کامیابی سے مکمل

ویڈیو

فٹ پاتھ پر پینٹنگ بیچتا ہوا نوجوان

عمران خان سے ملاقات کا معمہ، حکومت کی خوف زدگی، سہیل آفریدی کو جھٹکا اور نور مقدم کیس میں نیا موڑ

پہلے ٹوئٹر پر سخت پوسٹ کرنا چھوڑو، پھر ملاقات، عمران خان کی صحت سے متعلق فیک نیوز، سہیل آفریدی بھی ناکام

کالم / تجزیہ

ڈیجیٹل تشدد، ایک انتباہ

نورمقدم کیس: جسٹس باقرنجفی کے فیصلے پر ردعمل کیوں ؟

ہر دلعزیز محمد عزیز