سائنس دانوں نے زمین پر ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں ہمارے نظام شمسی سے باہر سے آنے والے خلائی اجسام کے ٹکرانے کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک: آسمان میں پراسرار اشیا کی نقل و حرکت، کیا یہ خلائی مخلوق کی کارستانی ہے؟
نئی تحقیق میں ان اجسام کی ممکنہ رفتار اور زمین سے ٹکرانے کے زاویے وغیرہ کا حساب لگایا گیا ہے۔
رواں سال یکم جولائی کو دریافت ہونے والا پراسرار بین النجمی دُم دار ستارہ 3 آئی اٹلس پہلے ہی سائنس دانوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی 2 بین النجمی اجسام— ’اوٗمواموا‘ (2017) اور بوریسوف (2019) ہمارے نظامِ شمسی کا دورہ کر چکے ہیں۔ 
اگرچہ ناسا نے تصدیق کی ہے کہ 3 آئی اٹلس زمین کے لیے کسی بھی خطرے کا باعث نہیں تاہم اگر مستقبل میں کوئی آئی ایس او زمین سے ٹکرائے تو سائنس دانوں نے اس بات کی نشاندہی کر دی ہے کہ کن خطوں کو زیادہ دھچکا لگ سکتا ہے۔
کم عرض البلد کے قریب علاقے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں
ایک حالیہ سائنٹیفک پیپر کے مطابق خط استوا کے قریب کے خطے بین النجمی اجسام کے تصادم کے لیے زیادہ حساس ہیں۔
مزید پڑھیے: نظام شمسی سے 3 ارب سال پرانا دمدار ستارہ دریافت
تحقیق کے مطابق یہ مہمان اجسام کہکشاں کے دوسرے حصوں سے سفر کرتے ہیں اور زمین سے ٹکرانے کی صورت میں سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔
تحقیق کی قیادت مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ڈیریل سیلگمین نے کی جنہوں نے کمپیوٹر سمیولیشنز کے ذریعےآئی ایس اوز کی ممکنہ حرکات اور راستے ماڈل کیے۔
مطالعے میں لکھا گیا ہے کہ اس تحقیق میں ہم زمین سے ٹکرانے والے بین النجمی اجسام کے متوقع مداری عناصر، زاویاتی سمتوں اور رفتاروں کا حساب لگاتے ہیں۔
مطالعے میں ایم ٹائپ ستاروں کی حرکیات کو بنیاد بنایا گیا
رپورٹس کے مطابق تحقیق میں ایم ٹائپ ستاروں (جنہیں ریڈ ڈوارف بھی کہا جاتا ہے) کے حرکیاتی نمونوں پر انحصار کیا گیا کیونکہ یہ ہماری کہکشاں میں سب سے زیادہ تعداد میں موجود ستارے ہیں۔
مزید پڑھیں: 10 کھرب سورجوں جتنی روشنی، اب تک کا سب سے طاقتور بلیک ہول دھماکا دریافت
محققین نے تسلیم کیا کہ یہ انتخاب کچھ حد تک فرضی ہے کیونکہ ISOs کی صحیح حرکیات اب تک واضح نہیں۔
شمالی نصف کرہ نسبتاً زیادہ خطرے میں
تحقیق سے معلوم ہوا کہ خط استوا کے قریب واقع علاقے تو سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں تاہم خطرے کا ایک معمولی جھکاؤ شمالی نصف کرہ کی جانب بھی ہے جہاں دنیا کی تقریباً 90 فیصد آبادی رہتی ہے۔
آئی ایس اوز 2 سمتوں سے زیادہ غالب آتے ہیں
مطالعے کے مطابق بین النجمی اجسام زیادہ تر دو سمتوں سے آنے کا امکان رکھتے ہیں سولر ایپکس وہ سمت جس جانب سورج کہکشاں میں حرکت کر رہا ہے اور گیلکٹک پلین کہکشاں کا وہ خط جس میں سب سے زیادہ ستارے موجود ہیں۔
کس موسم میں خطرہ بڑھ جاتا ہے؟
تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ رفتار والے ممکنہ تصادم بہار کے موسم میں ہو سکتے ہیں جب زمین سورج کی حرکت کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہوتی ہے۔
جبکہ مجموعی طور پر تصادم کا امکان سردیوں میں زیادہ ہوتا ہے، جب زمین سولر ایپکس کی مخالف سمت کی طرف ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نظام شمسی سے 3 ارب سال پرانا دمدار ستارہ دریافت
آئی ایس اسوز جب زمین کی جانب بڑھتے ہیں تو ان کی رفتار نسبتاً کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے سورج کی کشش ثقل ان پر زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔














