کراچی کی 26 شاہراہوں پر رکشوں کا داخلہ بند، نوٹیفکیشن جاری

جمعرات 4 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 کراچی کی ٹریفک صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انتظامیہ نے رکشوں کے داخلے پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ٹریفک اصلاحات کا اعلان، لاہور میں چنگ چی رکشوں پر پابندی

کمشنر کراچی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق شہر کی 20 اہم شاہراہوں پر 2 اور 4 سیٹر رکشوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا گیا ہے، جبکہ پابندی کا دائرہ بڑھا کر مجموعی طور پر 26 مرکزی شاہراہوں تک کردیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پر یہ فیصلہ ڈی آئی جی ٹریفک کی سفارش کیا گیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنایا جا سکے اور بڑی شاہراہوں پر رش میں کمی لائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ: 4 سیٹر رکشوں پر پابندی

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ شارع فیصل سے آئی آئی چندریگر روڈ تک رکشوں کی مکمل ممانعت فوری طور پر نافذ العمل ہوگئی ہے۔

کمشنر کراچی نے سیکشن 144 کے تحت یہ پابندی عائد کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ اس فیصلے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ شہریوں کو ٹریفک جام کی اذیت سے نجات دلائی جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں وقفہ، عالمی منڈی میں تیل 6 فیصد سے زائد سستا

میرپور ڈویژن میں پولنگ پرامن ماحول میں جاری، سیکیورٹی انتظامات مؤثر، بہترین ٹرن آؤٹ کی توقع، کمشنر میرپور

ایرانی بحری جہاز پر حملہ، تہران کی یوکرین کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی

بھارتی کرکٹر ارشدیپ سنگھ نے اداکارہ سمرین کور کے ساتھ تعلقات کا اعلان کر دیا، پیغام میں کیا لکھا؟

سیاسی جماعتیں ضابطۂ اخلاق کی پابندی کریں، عوام کو آزادانہ حقِ رائے دہی کا موقع ملنا چاہیے، شیری رحمان

ویڈیو

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں وقفہ، عالمی منڈی میں تیل 6 فیصد سے زائد سستا

ایرانی بحری جہاز پر حملہ، تہران کی یوکرین کو سخت جوابی کارروائی کی دھمکی

جمہوری عمل ہی مسائل کا حل، آزاد کشمیر کے شہری ووٹ ڈالنے کے لیے پُرعزم، بھرپور جوش و خروش

کالم / تجزیہ

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی

دریاؤں کا مقدمہ اور معرکۂ حق

دو ہم سفر دو ہم عصر: منیر نیازی اور محمد سلیم الرحمان