پی آئی اے اور افغانستان کی کام ایئر کے درمیان انٹر لائن تعاون کا معاہدہ

پیر 14 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پی آئی اے اور افغانستان کی کام ایئر نے انٹر لائن تعاون کا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت اسلام آباد کے راستے افغان مسافروں کو مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے اہم مقامات تک سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔

بزنس ریکارڈر کی ایک رپورٹ کے مطابق پی آئی اے اور کام ایئر کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت افغانستان کو اسلام آباد کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے اہم مقامات سے منسلک کرنے کے لیے ایک مربوط ٹرانزٹ روٹ قائم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری مکمل، نئی انتظامیہ کا روڈ میپ کیا ہے؟

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان کے مطابق معاہدے کے تحت مسافر اپنے مکمل سفر کی بکنگ ایک ہی ریزرویشن پر کرا سکیں گے اور انہیں سفر کے مختلف مراحل کے لیے الگ الگ ٹکٹ خریدنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

اس کے علاوہ مسافروں کا چیک اِن سامان کابل سے اسلام آباد پہنچنے کے بعد براہِ راست پی آئی اے کی کنیکٹنگ پرواز میں منتقل کردیا جائے گا، اس طرح مسافروں کو دورانِ سفر اپنا سامان وصول کرکے دوبارہ چیک اِن کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

معاہدے کے تحت خلیجی ممالک جانے والے افغان مسافر پاکستان میں امیگریشن کلیئرنس کے بغیر بھی سفر جاری رکھ سکیں گے، بشرطیکہ وہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر ٹرانزٹ کے دوران ایئر سائیڈ کی حدود میں رہیں۔

اس تعاون کے تحت ابتدائی روٹ کابل، اسلام آباد اور دمام کے درمیان قائم کیا گیا ہے، جس سے افغانستان سے مشرقی سعودی عرب جانے والے مسافروں، بالخصوص وہاں کام کرنے والے افغان شہریوں اور تارکین وطن کو سہولت ملے گی۔

مزید پڑھیں: 6 سال بعد پی آئی اے کا لندن کا فضائی آپریشن بحال،برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کیا پیغام دیا؟

ایئرلائنز نے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں خلیج کے دیگر اہم اور زیادہ طلب والے مقامات تک اس سہولت کو وسعت دینے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔

ان مقامات میں مدینہ منورہ، مسقط اور العین شامل ہیں، جہاں مذہبی سفر کرنے والے افراد، کارکنوں اور کاروباری مسافروں کو سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔

پی آئی اے ترجمان کے مطابق یہ شراکت داری افغان مسافروں کے لیے علاقائی فضائی رابطوں کو مزید وسعت دے گی جبکہ اسلام آباد کو جنوبی اور مغربی ایشیا کے درمیان ایک اہم فضائی ٹرانزٹ مرکز کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp