دنیا بھر میں ملیریا کی ادویات بے اثر، عالمی ادارہ صحت نے وارننگ جاری کردی

جمعرات 4 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دنیا میں ملیریا کی صورتحال پر ڈبلیو ایچ او کی تازہ رپورٹ کے مطابق مچھر کے ذریعے منتقل ہونے والی یہ قابل علاج اور قابل انسداد بیماری اب بھی عالمی صحت کا بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، جو ہر سال لاکھوں افراد کی جان لے لیتی ہے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں بچے اور حاملہ خواتین شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد ذیلی صحارا افریقہ سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 25 برسوں میں انسداد ملیریا اقدامات سے تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ زندگیاں بچائی گئیں اور 47 ممالک کو ملیریا فری قرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود صرف 2024 میں 28 کروڑ سے زائد کیسز سامنے آئے جبکہ اس بیماری سے چھ لاکھ اموات ہوئیں۔ ان میں 95 فیصد مریضوں کا تعلق افریقہ کے 11 ممالک سے تھا۔

ادویات کے خلاف جراثیمی مزاحمت میں اضافہ

ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ جراثیموں کی ادویات کے خلاف مزاحمت ملیریا کے خاتمے کی بڑی رکاوٹ بنتی جا رہی ہے۔ آٹھ ممالک میں ملیریا کی دواؤں، خصوصاً آرٹیمیسنن کے خلاف مزاحمت کی تصدیق یا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ کسی ایک دوا پر انحصار کم کیا جائے اور بیماری کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے۔

وسائل کی کمی اور پھیلاؤ کا بڑھتا خدشہ

افریقہ میں جاری تنازعات، موسمیاتی عدم مساوات اور کمزور صحت کے ڈھانچے ملیریا سے نمٹنے کی کوششوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ 2024 میں اس بیماری کے خلاف صرف 3.9 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی، جو ڈبلیو ایچ او کے مقرر کردہ ہدف کے نصف سے بھی کم ہے۔ ترقیاتی امداد میں کمی کی وجہ سے بھی انسداد ملیریا اقدامات متاثر ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملیریا سے کیسے محفوظ رہا جاسکتا ہے؟ علامات اور علاج کیا ہے؟

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ادویات کی مزاحمت اور بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے بڑے پیمانے پر وسائل فراہم نہ کیے گئے تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

نئی ادویات اور جرات مندانہ سرمایہ کاری کی ضرورت

میڈیسن فار ملیریا وینچر کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مارٹن فچیٹ نے کہا کہ ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو ملیریا قابل علاج بیماری نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق اس مرض کی روک تھام کیلئے نئی ادویات کی تیاری اور اختراع میں جرات مندانہ سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اس چیلنج پر قابو پانے کیلئے عالمی اداروں، علمی حلقوں، صنعتوں، معالجین، محققین، سول سوسائٹی اور امداد فراہم کرنے والوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

گل پلازہ سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرعام پر آگئی، اہم انکشافات

صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے، وزیر خزانہ

پمز آتشزدگی: وزیراعظم کی بچے کی جان بچانے والی نرس کے لیے ستارہ خدمت اور ایک کروڑ روپے انعام کی منظوری

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں