اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسد عمر کو جیل میں ملاقات اور گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت دے دی

منگل 23 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اسد عمر کو جیل میں ملنے اور گھر کا کھانا فراہم کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حکم جاری کر دیا۔

اسد عمر کو اہل خانہ سے ملاقات اور گھر کا کھانا فراہم کرنے سے متعلق درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی، جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے درخواست قابل سماعت قرار دیتے ہوئے مذکورہ کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار وکیل آمنہ علی عدالت میں پیش ہوئیں اور موقف اختیار کیا کہ اسد عمر کی جیل میں طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے انکو گھر کا کھانا فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔

درخواست گزار نے استدعا کی کہ اسد عمر کو اہل خانہ کے ساتھ  ملنے کی بھی اجازت دی جائے۔

عدالت نے سماعت کے بعد اسد عمر کو گھر کا کھانا اور اہل خانہ سے ملنے کی اجازت دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو حکم جاری کر دیا۔

واضح رہے اسد عمر 9 مئی والے دن سے اب زیر حراست ہیں تاہم اچانک انکی جیل میں طبیعت خراب ہو گئی جس کی وجہ سے انکے اہل خانہ نے ہائی کورٹ میں ان سے ملنے اور کھانا فراہم کرنے کی اجازت طلب کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘