بلیک آؤٹ کے بعد بجلی بحالی میں ناکامی، نیشنل گرڈ کمپنی اور سی پی پی اے ذمہ دار قرار، بھاری جرمانہ عائد

پیر 8 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 4 سال قبل ہونے والے بلیک آؤٹ کے بعد بجلی بحالی میں ناکامی کا ذمہ دار نیشنل گرڈ کمپنی اور سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی (سی پی پی اے) کو قرار دے دیا ہے۔

نیپرا نے اپنے حالیہ فیصلے میں دونوں کمپنیوں پر ڈھائی ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا ہے۔

مزید پڑھیں: راولپنڈی اور اسلام آباد میں لائٹس بند رکھنے کی ہدایت

نیپرا کے فیصلے کے مطابق 9 جنوری 2021 کو ملک قریباً 20 گھنٹے تک اندھیرے میں ڈوبا رہا، جس دوران نیشنل گرڈ کمپنی اور سی پی پی اے فوری طور پر بجلی بحال کرنے میں ناکام رہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سال 2021، 2022 اور 2023 کے دوران بھی بجلی معطل ہونے کے متعدد واقعات رونما ہوئے اور دونوں کمپنیوں کی جانب سے فوری بحالی میں ناکامی دیکھی گئی۔

نیپرا نے بلیک آؤٹ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔

سماعت کے دوران نیشنل گرڈ کمپنی اور سی پی پی اے نے اپنی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی، تاہم نیپرا مطمئن نہ ہوئی اور دونوں کمپنیوں کو 15 دن کے اندر جرمانہ ادا کرنے کا حکم جاری کیا۔

مزید پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کا معاملہ، کے الیکٹرک حکام پیش

فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ملک بھر میں بجلی کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو اپنی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں پورا کرنا ہوگا، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے بلیک آوٹ کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں