اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے ملکی سیاسی ماحول، عدالتی معاملات اور 9 مئی کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے داخلی معاملات شدید اضطراب اور شورش کا شکار ہیں اور اداروں کے خلاف منظم مہم ملک کو پیچھے دھکیل رہی ہے۔
پنجاب اسمبلی اولڈ بلڈنگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ملک اس وقت شدید بے چینی اور بدنظمی کی کیفیت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے داخلی معاملات پر بھی شدید شورش ہے اور پورے نظام کو کسی وجہ سے پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔‘
مزید پڑھیں: مضبوط فوج مضبوط پاکستان کی ضامن، پی ٹی آئی نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، بیرسٹر گوہر
انہوں نے عدلیہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ میں گروہ بندی کے آثار نمایاں تھے، 5 ججز کے سامنے 31 مقدمات تھے، نواز شریف، حنیف عباسی اور حمزہ شہباز کے تمام کیسز اسی ایک گروہ کے سامنے پیش کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور ان کے ساتھیوں کو مخصوص مقدمات دیے گئے جن میں زیادہ تر نشانہ مسلم لیگ (ن) تھی۔
سیاسی انتشار کا ذکر کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا کہ گزشتہ 22 سے 25 سال میں کسی وفاقی یا صوبائی اسمبلی کا بجٹ سکون سے نہیں سن سکا۔ بجٹ سیشن میں شور شرابا، کرسیاں توڑنا اور ڈائس کا گھیراؤ معمول بن گیا ہے۔ انہوں نے 2018 کی اسمبلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے دن سے طے تھا کہ ڈائس پر چڑھ کر مراد سعید بننے کا شوق پورا کیا جائے گا اور عوامی مسائل پر بات نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہونے والے سیاسی جلسوں میں وفاقی وزرا کو ناقابلِ برداشت زبان کا نشانہ بنایا گیا۔ اگر فوج سے بات کریں تو جائز ہے لیکن اگر کسی کو تعلیمی ادارے سے تربیت دی جائے تو اسے غدار قرار دے دیا جاتا ہے۔
پریس کانفرنس میں اسپیکر نے پی ٹی آئی دورِ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں سیاسی انتقام کی بدترین مثالیں قائم کی گئیں، لوگوں کو ناجائز جیلوں میں ڈالا گیا، گھروں کو مسمار کیا گیا، جھوٹے مقدمات بنائے گئے اور شہزاد اکبر سیل سے کاروبار کا سامان اٹھا کر کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔
مزید پڑھیں: مائنس ون نہیں تو پوری پی ٹی آئی ختم، فیصل واوڈا نے سخت پیغام دے دیا
انہوں نے الزام لگایا کہ سی پیک کے خلاف سازش کی گئی، جبکہ محسن لغاری، خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ اور شوکت ترین کی مبینہ آڈیو میں بھی آئی ایم ایف پیکج روکنے کی کوششوں کا ذکر موجود تھا۔
ملک احمد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عوام اور ممبرشپ کے نام پر غیر شفاف طریقے سے فنڈز جمع کیے۔ 9 مئی کے واقعات پر بطور پاکستانی شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کو 27 چھاؤنیوں اور فوجی مراکز پر ایک وقت میں حملے کیے گئے، لاہور کور کمانڈر ہاؤس اور قومی پرچم کو آگ لگائی گئی۔ یہ سب ایک سوچ کا تسلسل ہے جس کا مقصد سپریم کورٹ کو تقسیم کرنا، معیشت کو تباہ کرنا اور فوجی قیادت کو نشانہ بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ افواجِ پاکستان کی وردی کی تکریم کے لیے مر مٹنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا فوج کو کمزور کرکے پارلیمنٹ مضبوط ہوگی؟ اگر کوئی فوجی نرسری میں پلا بڑھا ہو تو وہ بارڈر کی حفاظت کرنے والی فورس کو کمزور کرنے کی کوشش کیوں کرتا ہے؟
ملک احمد خان نے کہا کہ اگر کسی ایک سیاسی مخالف پر بھی ان کا بنایا ہوا سیاسی مقدمہ ثابت ہوجائے تو وہ استعفیٰ دینے کو تیار ہیں۔ 10 مئی کو فوج نے زمین و آسمان پر اپنی برتری منوائی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جنگی کھیل کھیل رہا ہے۔ ’میں نے رافیل گرتے خود دیکھے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض وزرا کے بیانات سندھ اور فوج کو بھارتی ہدف بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوجی قیادت کو نشانہ بنانا دشمنی کی بدترین شکل ہے۔ سپہ سالار کے خلاف زبان کھولیں گے تو جواب بھی سنیں گے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر ملک احمد خان نے وزیرِاعظم شہباز شریف کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاست کو محض سیاست نہ سمجھیں،اس کے پیچھے گہری سازش کی بُو آ رہی ہے۔
انہوں نے پنجاب اسمبلی میں گالیوں اور غیر اخلاقی زبان کے استعمال کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ جمہوریت نازک ہوتی ہے، اسے گالی اور انتشار سے نقصان پہنچتا ہے۔













