پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے پارلیمانی اجلاس میں قائم مقام اسپیکر کے رویّے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورم موجود ہونے کے باوجود بار بار اجلاس کو معطل کرنا پارلیمانی نظام کا مذاق بنانے کے مترادف ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما اور رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری کا اہم بیان
قائم مقام اسپیکر کے رویّے پر انتہائی مایوسی ہوئی ہے، بی بی آصفہ بھٹو زرداری
کورم موجود ہونے کے باوجود بار بار اجلاس معطل کرنا پارلیمانی نظام کا مذاق بنانے کے مترادف ہے، بی بی آصفہ بھٹو زرداری… https://t.co/B4Dh0fga0H
— PPP (@MediaCellPPP) December 10, 2025
آصفہ بھٹو نے الزام لگایا کہ اجلاس کو مؤخر کرنے کی ہدایات شاید اس لیے دی گئیں تاکہ وہ اپنا توجہ دلاؤ نوٹس پیش نہ کر سکیں۔ انہوں نے اس عمل کو نہایت چھوٹی اور گھٹیا سیاسی چال قرار دیا۔
توجہ دلاؤ نوٹس اور بینظیر بھٹو ائیر پورٹ
آصفہ بھٹو کا توجہ دلاؤ نوٹس وفاقی وزیر برائے دفاع کو پیش کیا گیا، جس میں نئے بین الاقوامی اسلام آباد ایئر پورٹ کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب نہ کرنے پر وفاقی حکومت کی ناکامی کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ عوام میں گہری تشویش پیدا کر رہا ہے اور جمہوریت اور ملک کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کورم برقرار رکھنے کے باوجود اسپیکر کے رویے پر افسوس ہے، رہنما پیپلز پارٹی شازیہ مری
آصفہ بھٹو کے نوٹس میں جن ارکان کا نام شامل تھا وہ سید نوید قمر، جناب عبدالقادر پٹیل، ڈاکٹر نفیسہ شاہ، اور سید رفیع اللہ ہیں۔
آصفہ بھٹو نے واضح کیا کہ پارلیمانی اصولوں کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں اور اجلاس کو مؤخر کرنے جیسے چھوٹے سیاسی حربے عوام اور جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہیں۔














