خالدہ ضیا کی حالت گردے ناکارہ ہونے کے بعد مزید تشویشناک، وینٹی لیٹر پر منتقل

جمعہ 12 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی صحت انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے اور وہ ڈھاکا کے ایور کیئر اسپتال میں سنگین پیچیدگیوں کے باعث وینٹی لیٹر پر زیرِ علاج ہیں۔ میڈیکل بورڈ کے مطابق ان کے گردے مکمل طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں اور انہیں باقاعدہ ڈائیلاسز کی ضرورت ہے، جبکہ متعدد دیگر طبی مسائل بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں عام انتخابات سے قبل سیاسی تشدد میں خطرناک اضافہ

میڈیکل بورڈ کے نمائندہ پروفیسر ڈاکٹر شہاب الدین تعلقدار نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ خالدہ ضیا کو سانس کی شدید قلت، خون میں آکسیجن کی کمی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی سطح جیسے مسائل لاحق ہیں، جن کے لیے انہیں ہائی فلو نزل کینولا اور BiPAP سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم حالت میں بہتری نہ آنے پر انہیں الیکٹیو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا تاکہ پھیپھڑوں اور دیگر اہم اعضا کو آرام مل سکے۔

ڈاکٹرز کے مطابق 27 نومبر کو ان میں شدید لبلبے کی سوزش (Acute Pancreatitis) کی تشخیص ہوئی تھی جو اب بھی انتہائی نگہداشت میں علاج کی متقاضی ہے۔ شدید انفیکشن کے باعث انہیں طاقتور اینٹی بائیوٹکس اور اینٹی فنگلز دی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں نظامِ ہاضمہ میں خون رسنے اور Disseminated Intravascular Coagulation (DIC) کے سبب مسلسل خون اور اس کے اجزا کی منتقلی کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش محمد یونس کی اسپتال جاکر خالدہ ضیا کی عیادت

طبی ماہرین نے بتایا کہ ایکو ٹیسٹ میں دل کے آورتک والو میں مسائل سامنے آنے پر مزید جانچ کے لیے Transesophageal Echocardiogram (TEE) کیا گیا، جس میں Infective Endocarditis کی تشخیص ہوئی، جس کا علاج عالمی معیارات کے مطابق فوری شروع کر دیا گیا ہے اور اس حوالے سے ملکی و غیر ملکی ماہرین سے بھی مشاورت جاری ہے۔

میڈیکل بورڈ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ خالدہ ضیا کی صحت سے متعلق افواہیں نہ پھیلائیں، کیونکہ ان کی حالت انتہائی نازک ہے اور ڈاکٹرز کی ایک مشترکہ ملکی و بین الاقوامی ٹیم روزانہ کی بنیاد پر علاج کا جائزہ لے رہی ہے۔

خالدہ ضیا طویل عرصے سے جگر اور گردوں کے مسائل، دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، شوگر، گٹھیا اور انفیکشنز جیسے متعدد دائمی امراض میں مبتلا رہی ہیں، اور طبی صورتحال بگڑنے پر انہیں 23 نومبر کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں وہ اب بھی انتہائی تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سانحہ پمز، بچوں کو کیوں نہ بچایا جا سکا؟، تحقیقاتی کمیٹی نے 11 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی

خیبر پختونخوا: بنوں اور لکی مروت میں پولیس امن کمیٹی کا منصوبہ ناکام

امریکا میں سندھ طاس معاہدے پر عالمی سیمینار، بھارتی اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار

روزگار، تعلیم، صحت اور ڈیجیٹل معیشت، افتخار گیلانی کا آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے روڈ میپ سامنے آگیا

گل پلازہ سانحہ: جوڈیشل کمیشن کی 78 صفحات پر مشتمل رپورٹ منظرعام پر آگئی، اہم انکشافات

ویڈیو

ہمارا نظامِ صحت سڑ چکا، سانحہ پمز کی انکوائری رپورٹ سے تمام حقائق سامنے آجائیں گے، وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کراچی پاسپورٹ آفس اور ایئرپورٹ کا دورہ، سہولیات میں اضافے کا اعلان

زینب اور فاطمہ کو بی ایل اے نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا، وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی متاثرہ خواتین کے ہمراہ پریس کانفرنس

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں