’جین زی‘ کے احتجاج نے نیپال کی معیشت کو بٹھا دیا، 586 ملین ڈالرز کا نقصان

جمعہ 12 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نیپال کی حکومت نے کہا ہے کہ ستمبر میں بدعنوانی کے خلاف نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے بڑے احتجاج، جنہیں ’جین زی پروٹسٹ‘ کہا جا رہا ہے، نے ملکی معیشت کو 586 ملین ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا۔ اس احتجاج کے نتیجے میں اس وقت کے وزیراعظم کے پی شرما اوُلی کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:نیپال نے 100 روپے کا نیا نوٹ جاری کردیا، بھارت کیوں بوکھلا گیا؟

سرکاری بیان کے مطابق بدعنوانی کے خلاف شروع ہونے والی اس تحریک اور بعد ازاں ہونے والی ہنگامہ آرائی میں 77 افراد ہلاک اور 2 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔

مشتعل مظاہرین نے سرکاری اور نجی عمارتوں کو نذرِ آتش کر دیا تھا جین میں وزیراعظم آفس، سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس، صدارتی عمارت اور سنگھا دربار سمیت کئی اہم حکومتی و کاروباری عمارتیں شامل ہیں۔

عبوری وزیراعظم سوشیلا کرکی کے دفتر کے مطابق ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اندازہ لگایا ہے کہ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو پر 252 ملین ڈالر سے زیادہ لاگت آئے گی۔ تاہم حکومت کے قائم کردہ ری کنسٹرکشن فنڈ میں اب تک عوام اور اداروں کی جانب سے صرف ایک ملین ڈالر سے کم رقم جمع ہو سکی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ بڑے سرکاری ڈھانچوں، جن میں سنگھا دربار، سپریم کورٹ، صدارتی عمارت اور کئی اہم وزارتیں شامل ہیں، کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نیپال: پُرتشدد احتجاج میں کتنے افراد ہلاک و زخمی ہوئے؟

وزارتِ شہری ترقی کے سینئر انجینیئر چکرابرتی کانتھا نے بتایا کہ جزوی طور پر متاثرہ عمارتوں کی مرمت مکمل کرکے انہیں دوبارہ استعمال کے قابل بنا دیا گیا ہے، جبکہ مکمل تباہ شدہ عمارتوں کی تعمیر تفصیلی رپورٹس اور ڈیزائن مکمل ہونے کے بعد شروع کی جائے گی۔

یاد رہے کہ عبوری حکومت نے نئے پارلیمانی انتخابات 5 مارچ 2026 کو کرانے کا اعلان کر رکھا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شاہراہ فیصل پر بینرز: فاطمہ جناح اور فریال تالپور کو ’نظریاتی بہنیں‘ قرار دینے پر ہنگامہ

اسحاق ڈار کی آسٹریلین ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال

ہنگامی صورتحال میں بھی سپریم کورٹ کی کارروائی جاری، ویڈیو لنک کے ذریعے 20 مقدمات نمٹا دیے گئے

’ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ‘فیلڈ مارشل کی ٹرمپ کو فون کال

پنجاب میں ٹریفک جرمانوں میں کمی کا اطلاق تاخیر کا شکار، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

لائیوپاکستان کی ایران، امریکا مذاکرات کے دوسرے دور کو کامیاب بنانے کے لیے کوششیں جاری

فیلڈ مارشل نے ایران میں امن کے لیے عظیم کام کیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

کالم / تجزیہ

ایک اور گیارہ سے نو دو گیارہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟