تبت میں چینی ڈیم کی تعمیر بھارت کے لیے کس قدر تباہ کن ہو سکتی ہے؟

جمعرات 18 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کی جانب سے دریائے یارلنگ سانگپو (جو بھارت میں داخل ہو کر برہم پُتر کہلاتا ہے) پر تاریخ کے سب سے بڑے اور پیچیدہ ہائیڈرو پاور منصوبے کی تعمیر نے بھارت میں تشویش بڑھا دی ہے۔ بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ’خطرناک اور رسکی‘ ڈیم بھارت، بنگلادیش اور پورے برہم پتر بیسن کے ماحول اور آبادی پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

یہ دریا تبّت سے نکل کر بھارت میں آتا ہے اور لاکھوں افراد کی کھیتی باڑی، ماہی گیری اور روزمرہ پانی کی ضروریات پوری کرتا ہوا بنگلادیش تک جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اوپر کی سطح پر بڑے پیمانے پر تعمیرات دریا کے قدرتی بہاؤ اور تال میل کو بُری طرح متاثر کرسکتی ہیں۔

منصوبے کی تفصیل اور اخراجات

چین 168 ارب ڈالر لاگت کے اس میگا ہائیڈرو سسٹم کے ذریعے 2 ہزار میٹر تک کے قدرتی ڈراپ سے توانائی پیدا کرنا چاہتا ہے۔ یہ متعدد ڈیم زیر زمین سرنگوں، ریزروائرز اور پاور اسٹیشنز پر مشتمل انتہائی تکنیکی منصوبہ ہوگا، جسے عالمی ماہرین زمین پر اب تک کا ’سب سے پیچیدہ‘ ڈھانچہ قرار دے رہے ہیں۔

بھارت کے خدشات اور ممکنہ اثرات

بھارتی ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ ڈیم کی وجہ سے پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے بھارت کے زرعی نظام، فصلوں اور حیاتیاتی تنوع کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مچھلی کے قدرتی سفر اور دریا کی تہوں میں موجود معدنیات کے بہاؤ پر منفی اثر پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:چین کا میگا ڈیم بھارت کا کتنا پانی کاٹ دے گا؟

بھارتی ماہرین کو یہ بھی تشویش ہے کہ موسمی سیلابی نظام اور دریائی توازن بگڑ سکتا ہے، جس سے شدید سیلاب یا پانی کی کمی جیسے خطرات بڑھ جائیں گے۔ منصوبہ اس خطے میں ماحولیاتی حساسیت کو چیلنج کرے گا، جہاں نایاب جنگلی حیات اور محفوظ قدرتی علاقے پائے جاتے ہیں۔

بھارتی حکام کے مطابق چین اگر چاہے تو ڈیم کے ذریعے پانی روک کر یا چھوڑ کر بھارت کے شمال مشرقی علاقوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے حکام یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ یہ منصوبہ ’واٹر بم‘ بن سکتا ہے۔

چین کا موقف

چین کا کہنا ہے کہ منصوبہ مکمل تحقیق کے بعد بنایا گیا ہے، جس میں ماحولیاتی اور انجینئرنگ احتیاطی تدابیر شامل ہیں اور اس سے نیچے کے علاقوں کو خطرہ نہیں ہوگا۔

بھارت کا ردعمل اور مستقبل کا راستہ

بھارت نے کہا ہے کہ وہ اس منصوبے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنی عوام و معیشت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ بھارت خود بھی برہم پُتر پر 11,200 میگاواٹ کے ڈیم کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، تاکہ چین کی تعمیراتی سرگرمیوں کا توازن قائم رکھا جا سکے۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر دونوں ملک تعاون کے بجائے مقابلے کی فضا میں ڈیم سازی جاری رکھیں تو خطہ پانی کی شدید کشیدگی اور خطرناک ماحولاتی تنازعات کا سامنا کرسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان: منگلہ زرغون غر میں آپریشن کے دوران 35 سے زیادہ دہشتگرد ہلاک، 3 کمانڈرز گرفتار

ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے، اسے فوری اقدامات کرنا ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

سعودی عرب میں ذوالحج کا چاند نظر آگیا، عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائی جائےگی

ویڈیو

چین سے امریکا اور ایران تک، دنیا کا پاکستان پر اعتماد، اسلام آباد کے شہریوں کی حکومت اور پاک فوج کو خراجِ تحسین

معذور افراد کو بااختیار بنانے کے لیے مین اسٹریم سوشل آرگنائزیشن مشن امریکا کی کوششیں

حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری، آئندہ مالی سال کا بجٹ کیسا تیار ہونے جا رہا ہے؟

کالم / تجزیہ

قدم قدم سوئے حرم

میڈیا اور پروپیگنڈا

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں