معروف صحافی اور خارجہ امور کی تجزیہ کار نسیم زہرہ نے کہا ہے کہ افغان علما کی جانب سے یہ اعلان کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم اصل سوال اس پر عملدرآمد کا ہے۔
’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان خطے میں تجارت اور کنیکٹیویٹی کو فروغ دینا چاہتا ہے تاہم سیکیورٹی خدشات اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان افغانستان کے لیے اپنی خدمات بیان کرنے میں کمزور ہے، فخر کاکاخیل
ان کا کہنا تھا کہ خطے کے قریباً تمام ممالک کو افغانستان سے سیکیورٹی خدشات لاحق ہیں، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان خطے کی خوشحالی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اس خیال سے اختلاف کیاکہ صرف حکومت کی تبدیلی سے تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ماضی میں ہر افغان حکومت نے پاکستان سے اختلاف کی صورت میں بھارت کی طرف رجوع کیا۔
’اب دنیا پاکستان کو پہلے کے مقابلے میں مختلف نظر سے دیکھ رہی ہے‘
’حالیہ علاقائی اور عالمی پیش رفت کے بعد دنیا پاکستان کو پہلے کے مقابلے میں مختلف نظر سے دیکھ رہی ہے۔ ان کے مطابق عالمی برادری کسی ملک کی اندرونی سیاست سے زیادہ یہ دیکھتی ہے کہ اس ملک کے ساتھ تعلقات سے اسے کیا فائدہ یا نقصان ہو سکتا ہے۔‘
نسیم زہرہ نے کہاکہ بھارت کی جانب سے مئی میں کی گئی جارحیت کے بعد پاکستان نے جس انداز میں جامع، پیشہ ورانہ اور تکنیکی ردعمل دیا، اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔ ان کے بقول یہ محض چند روزہ جھڑپ نہیں تھی بلکہ ایک مکمل اسٹریٹیجک رسپانس تھا جس کے بعد بھارت کو پیچھے ہٹنا پڑا اور پاکستان کا پلڑا واضح طور پر بھاری نظر آیا۔
نسیم زہرہ نے کہاکہ اس پیش رفت کے بعد یورپ سمیت مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کو زیادہ سنجیدگی سے لیا گیا۔ ان کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں تین نمایاں تبدیلیاں سامنے آئیں، جن میں بھارت کو مؤثر جواب، ایران کے ساتھ پاکستان کا واضح اور اصولی مؤقف، اور خطے میں پاکستان کی مجموعی ساکھ میں اضافہ شامل ہے۔
’پاکستان نے امریکا کے سامنے اپنی ریڈلائنز واضح کیں‘
امریکا سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے نسیم زہرہ نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حالیہ اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں پاکستان نے اپنی ریڈ لائنز واضح کیں اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان کی فوج کسی بین الاقوامی فورس کا حصہ نہیں بنے گی جب تک اس کا مینڈیٹ واضح نہ ہو۔
انہوں نے کہاکہ امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات کا اصل فائدہ مالی امداد سے زیادہ سرمایہ کاری کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔
نسیم زہرہ نے چین، بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہاکہ تعلقات محض نعرے بازی سے نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار اسٹرکچرز سے آگے بڑھتے ہیں۔
مذید پڑھیں: ملکی سیاست میں بڑی پیشرفت: حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا امکان
داخلی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس وقت ملک ڈیڈلاک کا شکار ہے اور کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا، تاہم ان کے مطابق سیاسی یا ذاتی اختلافات کے باوجود مکالمہ بند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تصادم اور تلخ کلامی مسائل کا حل نہیں۔













