پاکستان میں دریائے چناب میں پانی کی سطح میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے، اور بھارت کی جانب سے پاکستانی خط کا کوئی جواب ابھی تک نہیں دیا گیا، جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے پر پھر شدید احتجاج
انڈس واٹر کمشنر مہر علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ شدید طور پر کم ہو گیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے بھارتی ہم منصب کو باقاعدہ خط بھی لکھا ہے۔
مہر علی شاہ نے بتایا کہ 16 دسمبر کو دریائے چناب میں پانی کا بہاؤ صرف 1800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو دریاؤں کے پانی کے حوالے سے ڈیٹا فراہم نہیں کررہا، جو سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔
انڈس واٹر کمشنر نے واضح کیاکہ پاکستانی حکام نے ہمیشہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کی ہے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں، جبکہ بھارت کی جانب سے جواب نہ دینا اور پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا فراہم نہ کرنا ایک سنگین مسئلہ ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اقدام عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار
واضح رہے کہ اپریل 2025 سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں، جب پہلگام میں دہشتگرد حملہ ہونے کے بعد بھارت نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کردیا تھا۔













