گنگا جمنی تہذیب سے ہندوتوا تک

ہفتہ 20 دسمبر 2025
author image

قرۃ العین حیدر

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ چند دنوں سے ہندوستان کے صوبہ بہار میں پیش آنے والے واقعے اور اس پر حاشیہ برداروں کے بیانات نے ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ یہ بیانات اور حرکات ایک ایسا ماحول پیدا کررہے ہیں جو ہر صاحبِ فہم کے لیے نہ صرف تکلیف دہ بلکہ خوفناک بھی ہے۔

حال ہی میں پٹنہ میں ایک سرکاری تقریب، جو نوجوان ڈاکٹروں کی تقرری کے حوالے سے منعقد کی گئی تھی، کے دوران بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اسٹیج پر موجود ایک نوجوان مسلم خاتون ڈاکٹر نصرت پروین سے پوچھا کہ وہ کیا پہنے ہوئے ہیں۔ خاتون کے نقاب بتانے پر وزیراعلیٰ نے اسے ہٹانے کا کہا۔ جب انہوں نے کوئی ردِعمل ظاہر نہ کیا تو وزیراعلیٰ خود آگے بڑھے اور انتہائی بدتمیزی سے ان کا نقاب اتار دیا۔

یہ عمل شاکنگ تھا۔ یہ بدتہذیبی، سماجی آداب، انسانی وقار، شخصی آزادی اور عورت کے حقِ انتخاب کی صریح خلاف ورزی تھا۔ سب سے اذیت ناک منظر وہ تھا جب اسٹیج کے پیچھے کھڑے مرد اس حرکت پر ہنس رہے تھے، گویا ایک عورت کی تذلیل پر پدرسری معاشرہ اجتماعی قہقہہ لگا رہا ہو۔ بعد ازاں خبریں آئیں کہ ڈاکٹر نصرت پروین نے اپنا اپائنٹمنٹ لیٹر لینے سے بھی انکار کر دیا۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس ذہنی کرب سے گزر رہی ہوں گی۔

نتیش کمار زبان چُھٹ ہیں اور کم درجے کی گفتگو میں پہلے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ان کے نامناسب جنسی ریمارکس ریکارڈ پر ہیں، اور ان کے حامیوں نے اس بار بھی جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اتر پردیش کابینہ کے وزیر سنجے نشاد کی گھٹیا اور suggestive مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’صرف نقاب ہی تو ہٹایا تھا، کہیں اور ہاتھ لگ جاتا تو‘۔

اس سے زیادہ پست ذہنیت کا تصور ممکن نہیں۔ یہی رویے آگے چل کر عورتوں کے جنسی استحصال اور دہلی یا کلکتہ جیسے سفاک ریپ کیسز کو جنم دیتے ہیں۔

بہار کی سرحد اتر پردیش سے ملتی ہے، اور افسوس اس بات کا ہے کہ یہ ذہنیت اتر پردیش جیسے صوبے کے منتخب نمائندوں کی ہے۔ یہ وہی اتر پردیش ہے جہاں لکھنؤ میں 1784 میں نواب آصف الدولہ نے ہندوستان کے سب سے بڑی امام بارگاہ کی بنیاد رکھی، جو متحدہ ہندوستان میں اہل تشیع کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی تھی اور جہاں تمام معروف مرثیہ نگاروں نے مرثیہ گوئی کی۔

بعد ازاں 1866 میں ضلع دیوبند میں دارالعلوم دیوبند قائم کیا گیا، جو اہل سنت کے ایک بڑے مکتبِ فکر کے لیے علمی و دینی مرکز بنا۔ ضلع بریلی سے تعلق رکھنے والے امام احمد رضا خان بریلوی نے بریلوی تحریک کی فکری اور فقہی بنیاد رکھی، جو انیسویں صدی کی بڑی مسلم تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔

ادھر ہندو برادری کا اصرار ہے کہ ایودھیا میں بھگوان رام کا جنم ہوا، اسی بنیاد پر بابری مسجد کے خلاف تحریک چلائی گئی اور اسے شہید کرکے رام مندر تعمیر کیا گیا۔ بھگوان رام کے جنم کا واقعہ یقیناً قبل از تاریخ ہے، جس کی کوئی دستاویزی دلیل موجود نہیں، تاہم سپریم کورٹ نے پھر بھی یہ متنازعہ فیصلہ دیا۔ اگر بادی النظر میں ہندو برادری کی بات مان لی جائے تو رام اور کرشن دونوں کی پیدائش بھی اتر پردیش میں ہوئی۔ یوں مسلمانوں کی بڑی دینی تحریکیں اور ہندو دیوتاؤں کا جنم، سب اسی خطے سے وابستہ ہیں۔ اس حساب سے اتر پردیش کا مذہب تو صرف رواداری ہونا چاہیے تھا۔ ایک وقت تھا بھی جب گنگا جمنی تہذیب کو زبان، ثقافت اور مذاہب کے سنگم کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج مذہبی تنافر رکھنے والوں نے اس خطے کو انسانوں خاص طور پر مسلمانوں کے لیے جہنم بنا دیا ہے۔

کیا نقاب لینا یا نہ لینا عورت کی اپنی چوائس نہیں؟ جو عورت کسی نظریے یا مذہبی فہم کے تحت نقاب اختیار کرتی ہے، یہ اس کا حق ہے، اور اسی طرح اسے حق ہے کہ نقاب نہ اوڑھے۔ یہ دونوں فیصلے ذاتی ہیں اور ان کا احترام معاشرے پر لازم ہے۔

بین الاقوامی سطح پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس واقعے کو انسانی وقار اور شخصی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ بھارت کے مختلف حصوں، بشمول کشمیر، میں احتجاج ہوئے اور لکھنؤ میں باقاعدہ مقدمہ بھی درج کیا گیا۔ اصولی طور پر اس عمل پر نہ معافی کی گنجائش ہے نہ کسی عذر کی، صرف استعفے کی ہے۔

بھارتی آئین کا آرٹیکل 25 مذہبی آزادی جبکہ آرٹیکل 21 انسانی وقار، رازداری اور شخصی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ کسی عورت کا زبردستی نقاب ہٹانا ان تمام آئینی ضمانتوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں، ہندوتوا کے تحت اس سے قبل راجستھان اور گجرات میں حجاب پہننے والی طالبات کو تعلیمی اداروں سے روکا گیا۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ ہندوتوا کے زیرِ سایہ بھارت کون سی نئی شکل اختیار کر رہا ہے؟ کیا یہ وہی بھارت ہے جہاں ’چودھویں کا چاند‘ اور ’میرے محبوب‘ جیسی مسلم تہذیبی فلمیں گولڈن جوبلیاں منایا کرتی تھیں، جہاں نقاب اوڑھے ہیروئن ہر تماشائی کی ہیروئن ہوتی تھی۔

ہندوتوا اب محض ایک سیاسی نظریہ نہیں رہا بلکہ ایک خطرناک شدت پسند تحریک بنتا جا رہا ہے، جس کا ٹرکل ڈاؤن اثر عام معاشرتی رویوں تک پہنچ چکا ہے۔ ہم ہر طرح کے جبر کے خلاف ہیں، زبردستی نقاب پہنانے والوں کے بھی، اور زبردستی نقاب کھینچنے والوں کے بھی۔

ٹوئنکل کھنہ کا حالیہ انٹرویو، جس میں انہوں نے اپنی اسماعیلی دادی اور ہندو والد کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کیسے ہندو پنڈت نے ان کی دادی کی میت کے پیروں کو بوسہ دیا اور قبرستان تک ساتھ گئے۔ وہ حسرت بھرے لہجے میں ایک روادار بھارت کی خواہش ظاہر کرتی ہیں، بھارت سے ایسے کئی لوگوں کا اظہار خیال اس بات پر مُہر ہے کہ بھارت بی جے پی کی چھتر چھایا میں آج ایک ہندو مذہبی شدت پسند ریاست بن چکا ہے جس میں اقلیتوں حتیٰ کہ لبرل ہندووں کے لیے کوئی جگہ نہیں اور اس کا سیکولر چہرہ نرا ڈھونگ ہے۔

یہ وقت ہے کہ بھارتی عوام سیاسی طور پر شدت پسندی کا راستہ روکیں، ورنہ

بقول راحت اندوری:

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لائیومشرق وسطیٰ جنگ: امریکا کی ایران کو مزید شدت سے حملوں کی دھمکی، تہران کا جواب دینے کا اعلان، مذاکرات سے انکار

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پیٹرول کے بعد ایل پی جی کے 2 جہاز بھی پورٹ قاسم پر لنگر انداز

رجب بٹ کا اہلیہ کو طلاق دینے کے بعد نیا بیان، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا

افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی بھارتی سازش کو برداشت نہیں کریں گے، پاکستانی مندوب

مشرق وسطیٰ کشیدگی: سعودی عرب کی مملکت سمیت دیگر عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی مذمت

ویڈیو

کیا ہر بہترین دوست واقعی زندگی بھر کا ساتھی ہوتا ہے؟

پیوٹن سے سفارشیں، ٹرمپ کی دوڑیں، جنگ ختم کرنے کا اعلان، آبنائے ہرمز استعمال کرنے کی اجازت مگر صرف ایک شرط پر

’برڈ آف ایشیا‘، 400 سے زیادہ میڈلز جیتنے والے پاکستانی ایتھلیٹ صوبیدار عبدالخالق کون تھے؟

کالم / تجزیہ

ایران کی موزیک دفاعی پالیسی کیا ہے، اس نے کیا کرشمہ کر دکھایا؟

بوئے خوں آتی ہے امریکا کے افسانے سے

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟