پاکستان ریلویز کی پٹڑی بدل گئی! خسارے میں چلنے والا ادارہ اب منافع کمانے لگا

ہفتہ 16 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ریلویز نے برسوں سے خسارے میں ڈوبے قومی ادارے سے منافع بخش ادارے تک کا غیر معمولی سفر طے کرتے ہوئے مالی سال 2024-25 میں 2 ارب 41 روپے کا آپریٹنگ سرپلس یعنی منافع حاصل کرلیا ہے۔

وزارتِ ریلوے کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلوے کی آمدن پہلی مرتبہ 93 ارب روپے سے تجاوز کر گئی، جبکہ مسلسل اصلاحات، نجکاری، اخراجات میں کمی، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور فریٹ آپریشن میں اضافے نے ادارے کو دیوالیہ پن کے خطرے سے نکال کر مالی استحکام کی راہ پر گامزن کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت اور پاکستان ریلوے میں تاریخی معاہدہ، پہلی فاسٹ ٹرین سمیت 8 نئے لوکل روٹس کا اعلان

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے جواب کے مطابق پاکستان ریلوے مسلسل خسارے کا شکار تھا، مالی سال 2020-21 میں ریلوے کی آمدن 48.649 ارب روپے جبکہ اخراجات 56.845 ارب روپے رہے۔

یوں ادارے کو 8.196 ارب روپے خسارہ برداشت کرنا پڑا، 2021-22 میں آمدن 60.092 ارب روپے اور اخراجات 67.699 ارب روپے رہے، جس سے خسارہ 7.607 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ 2022-23 میں صورتحال مزید خراب ہوئی اور 63.718 ارب روپے آمدن کے مقابلے میں 72.178 ارب روپے اخراجات کے باعث 8.460 ارب روپے خسارہ سامنے آیا۔

تاہم 2023-24 میں ریلوے نے پہلی بار 0.412 ارب روپے کا معمولی آپریٹنگ سرپلس حاصل کیا، جبکہ 2024-25 میں یہ سرپلس بڑھ کر 2.417 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: عید کے دنوں میں پاکستان ریلوے نے کتنی آمدنی حاصل کی؟

دستاویزات کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران ریلوے کو تنخواہوں، پنشن، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور یوٹیلیٹی اخراجات کے باعث شدید مالی دباؤ کا سامنا رہا۔

حکومت ہر سال اربوں روپے کی گرانٹ اِن ایڈ فراہم کرتی رہی تاکہ ادارہ مالی بحران سے بچ سکے۔ حکام کے مطابق اگر وفاقی معاونت نہ ملتی تو ریلوے کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔

پاکستان ریلوے کی بحالی کے لیے حکومت نے کئی اہم اصلاحاتی اقدامات کیے۔ ریلوے حکام کے مطابق 275 نئی لوکوموٹیوز کی خریداری اور پرانے انجنوں کی بحالی کے منصوبے شروع کیے گئے، جبکہ 160 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار رکھنے والی جدید کوچز سسٹم میں شامل کی گئیں۔

اس کے علاوہ 820 ہائی کیپسٹی فریٹ ویگنز کی خریداری بھی عمل میں لائی گئی تاکہ مال برداری کے شعبے کو مستحکم کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے کی کایا پلٹنے کا فیصلہ، وزیراعظم کا منافع بخش ادارہ بنانے کی ہدایت

ریلوے انتظامیہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور آؤٹ سورسنگ ماڈل کو بھی کامیابی سے نافذ کیا۔ 4 مسافر ٹرینیں نجی شعبے کے حوالے کی گئیں جبکہ مزید 11 ٹرینیں آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ بنایا گیا، جس سے 8.5 ارب روپے اضافی آمدن متوقع ہے۔

ریلوے اسکولز، اسپتالوں اور دیگر غیر بنیادی شعبوں کو بھی نجی انتظام کے تحت لانے کے اقدامات کیے گئے تاکہ مالی بوجھ کم ہو سکے۔

دستاویزات کے مطابق حکومت نے نجی شعبے کو ریلوے ٹریک استعمال کرنے کی اجازت دینے کے لیے ’ٹریک ایکسیس رجیم‘ بھی متعارف کرایا، جس کے تحت نجی کمپنیاں فیس ادا کر کے مال بردار ٹرینیں چلا سکیں گی۔ اس اقدام سے ریلوے کے غیر استعمال شدہ انفراسٹرکچر کو فعال بنانے اور اضافی آمدن پیدا کرنے میں مدد ملی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے نے صحافیوں کے لیے سفری رعایت کم کر دی

ریلوے نے اخراجات کم کرنے کے لیے بھی بڑے فیصلے کیے۔ آئی ایم ایف اصلاحات کے تحت اضافی عملے میں تقریباً 18 فیصد کمی کی گئی، جبکہ پی ایس او کے ساتھ معاہدے کے ذریعے ایندھن کے استعمال کو بہتر بنایا گیا، جس سے فیول بل میں 8 سے 10 فیصد بچت متوقع ہے۔

رہائشی کالونیوں کی بجلی کی فراہمی براہِ راست ڈسکوز اور کے الیکٹرک کے سپرد کرنے سے سالانہ 1.8 ارب روپے کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا۔ دفاتر میں سولر سسٹم کی تنصیب سے بھی اخراجات میں نمایاں کمی آئی۔

حکام کے مطابق ریلوے نے قبضہ شدہ اراضی واگزار کرانے اور کمرشل بنیادوں پر استعمال کے لیے نئی پالیسی اختیار کی، جبکہ انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن، سگنلنگ سسٹم کی بہتری اور مین لائن ون ایم ایل ون منصوبے پر پیش رفت کے ذریعے نظام کو جدید بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

لاہور، راولپنڈی اور کراچی سمیت اہم روٹس پر ٹریک بحالی کے منصوبے بھی شروع کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ریلوے کا تاریخی سنگِ میل: 2025 میں 93 ارب روپے سے زائد آمدنی اور ملک گیر جدیدکاری

آمدن بڑھانے کے لیے ’پاک بزنس ایکسپریس‘ جیسی پریمیم سروسز متعارف کرائی گئیں، کرایوں کو مرحلہ وار بہتر بنایا گیا اور بغیر ٹکٹ سفر کے خلاف سخت کارروائی شروع کی گئی۔ اسی طرح اسلام آباد، تہران، استنبول ٹرین کی بحالی سے علاقائی تجارت اور فریٹ ریونیو میں اضافہ ہوا۔

وزارتِ ریلوے کے مطابق SAP ERP سسٹم کے نفاذ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے مالی نگرانی، لاگت کنٹرول اور فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر بنایا گیا۔ پرانے نظام کی جگہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز متعارف کرائے گئے جس سے آپریشنل استعداد میں اضافہ ہوا۔

حالیہ مالی سال میں پاکستان ریلوے نے 93 ارب روپے سے زائد آمدن حاصل کی، جس میں 47 ارب روپے مسافر ٹرینوں، 31 ارب روپے فریٹ آپریشن، ڈیڑھ ارب روپے فوجی ٹریفک اور دیگر شعبوں سے آمدن شامل ہے، کراچی ڈویژن نے مسافر اور فریٹ دونوں شعبوں میں سب سے زیادہ ریونیو حاصل کیا۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کی مالی حالت بہتر ہونے کے باوجود پنشن، پرانے ٹریکس اور انفراسٹرکچر کی بحالی اب بھی بڑے چیلنجز ہیں، تاہم جاری اصلاحات اور جدید کاری کے منصوبے مستقبل میں پاکستان ریلوے کو مکمل طور پر خود کفیل اور منافع بخش ادارہ بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp