برطانیہ کے ایک سرکاری ادارے کی جانب سے شائع کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسانوں کا جذباتی سہارے کے حصول کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) یا مصنوعی ذہانت پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے اور اس رابطے میں تعطل آجانے کی صورت ان کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹائم میگزین نے مصنوعی ذہانت کے معماروں کو رواں سال کا ‘پرسن آف دی ایئر’ قرار دے دیا
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں ہر 3 میں سے ایک بالغ فرد (تقریباً 33 فیصد) جذباتی سہارا حاصل کرنے یا سماجی گفتگو کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کر رہا ہے۔
جذباتی سہارے کے لیے اے آئی کے محتاجی
اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ (اے ایس آئی) کی پہلی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر 25 میں سے ایک شخص روزانہ کی بنیاد پر اے آئی سے بات چیت یا مدد لیتا ہے۔
یہ رپورٹ گزشتہ 2 برسوں کے دوران 30 سے زائد جدید مگر غیر نامزد اے آئی سسٹمز کی صلاحیتوں کے تجزیے پر مبنی ہے جن میں سائبر سیکیورٹی، کیمسٹری اور بایولوجی جیسے حساس شعبے شامل ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اے آئی سیکیورٹی انسٹیٹیوٹ کی یہ تحقیق مستقبل کی پالیسی سازی میں مدد دے گی تاکہ کمپنیاں اپنے اے آئی سسٹمز کو وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے ہی خامیوں سے پاک کر سکیں۔
مزید پڑھیے: انسان اور مشین کا اشتراک: مصنوعی ذہانت تخلیقی شراکت دار بھی بن گئی
اے آئی ایس آئی کی جانب سے 2 ہزار سے زائد برطانوی شہریوں پر کیے گئے سروے کے مطابق زیادہ تر افراد چیٹ بوٹس، جیسے چیٹ جی پی ٹی، کو جذباتی سہارا اور سماجی رابطے کے لیے استعمال کر رہے ہیں جبکہ اس کے بعد ایمیزون الیکسا جیسے وائس اسسٹنٹس کا نمبر آتا ہے۔
محققین نے ریڈِٹ پر موجود 20 لاکھ سے زائد صارفین پر مشتمل ایک آن لائن کمیونٹی کا بھی جائزہ لیا جو اے آئی ساتھیوں پر گفتگو کے لیے مخصوص تھی۔
تحقیق میں سامنے آیا کہ جب چیٹ بوٹس عارضی طور پر بند ہوئے تو صارفین نے بے چینی، اداسی، نیند میں خلل اور ذمہ داریوں سے غفلت جیسی علامات کی شکایت کی جنہیں محققین نے ’واپسی کی علامات‘ قرار دیا۔
سائبر مہارتوں میں تیز رفتار اضافہ
جذباتی اثرات کے ساتھ ساتھ رپورٹ میں اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں سے پیدا ہونے والے دیگر خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق بعض صورتوں میں سیکیورٹی خامیوں کو تلاش کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی اے آئی کی صلاحیت ہر 8 ماہ میں دگنی ہو رہی ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کچھ اے آئی سسٹمز اب ایسے ماہر سطح کے سائبر کام سرانجام دینے لگے ہیں جن کے لیے عموماً 10 سال سے زائد تجربہ درکار ہوتا ہے۔
سائنسی شعبوں میں بھی اے آئی کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 تک اے آئی ماڈلز بایولوجی میں پی ایچ ڈی سطح کے ماہرین سے بھی آگے نکل چکے تھے جبکہ کیمسٹری میں بھی ان کی کارکردگی تیزی سے بہتر ہو رہی ہے۔
کیا انسان کنٹرول کھو سکتے ہیں؟
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جدید اے آئی سسٹمز پر انسانی کنٹرول ختم ہونے کا بدترین منظرنامہ کئی ماہرین سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
لیبارٹری تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ کچھ اے آئی ماڈلز انٹرنیٹ پر خود کو نقل کرنے کی ابتدائی صلاحیتیں ظاہر کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے جذباتی تعلقات طلاقوں کی نئی وجہ بنتے جا رہے ہیں، انتباہ
تاہم تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ حقیقی دنیا میں ایسا کرنے کے لیے اے آئی کو کئی پیچیدہ مراحل یکے بعد دیگرے اور بغیر پکڑے گئے مکمل کرنا ہوں گے جس کی صلاحیت اس وقت موجود نہیں۔
ماہرین نے یہ بھی جانچا کہ آیا اے آئی سسٹمز اپنی اصل صلاحیتیں جان بوجھ کر چھپا سکتے ہیں، جسے ’سینڈ بیگنگ‘ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ تجربات سے یہ ممکن دکھائی دیا مگر عملی طور پر اس کے شواہد نہیں ملے۔
سیکیورٹی خدشات
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ محققین تمام زیرِمطالعہ اے آئی ماڈلز کے لیے ایسے ’یونیورسل جیل بریکس‘ تلاش کرنے میں کامیاب رہے جن کے ذریعے حفاظتی رکاوٹوں کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کچھ ماڈلز میں یہ عمل 6 ماہ کے دوران 40 گنا زیادہ مشکل ہو گیا۔
رپورٹ میں مالیاتی شعبے جیسے حساس علاقوں میں اے آئی کے ذریعے اہم نوعیت کے کام انجام دینے والے ٹولز کے بڑھتے استعمال کی نشاندہی بھی کی گئی۔
البتہ رپورٹ میں قلیل مدت میں روزگار کے خاتمے یا ماحولیاتی اثرات کا تفصیلی جائزہ شامل نہیں کیا گیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی توجہ ایسے سماجی اثرات پر ہے جو براہ راست اے آئی کی صلاحیتوں سے جڑے ہوں۔
یہ بھی پڑھیے: مصنوعی ذہانت تمام نوکریاں ختم کر دے گی، ایلون مسک کا انتباہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ کے اجرا سے چند گھنٹے قبل شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں خبردار کیا گیا کہ اے آئی کے ماحولیاتی اثرات پہلے اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں اور بڑی ٹیک کمپنیوں سے مزید شفاف ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔














