وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ نواز شریف برینڈ ہیں، جب وہ انتخابی مہم کے لیے نکلیں گے تو دنیا دیکھے گی، اگلے انتخابات میں مسلم لیگ ن کلین سویپ کرے گی۔
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے عظمیٰ کا کہنا تھا کہ نواز شریف ایک برینڈ ہیں اور مریم نواز کا تو اور ہی کچھ اور ہے، جنرل الیکشن میں جب برینڈ نواز شریف، مریم نواز اور ہمارے وزیراعظم شہباز شریف کمپین کے لیے نکلیں گے، سوچیں کمپین کی صورتحال کیا ہوگی۔
’مریم نواز نے پنجاب کے عوام کی خدمت کی ہے‘
انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے پنجاب کے عوام کی خدمت کی ہے، مریم نواز کے کاموں کو پورا پاکستان سراہتا ہے اور خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ ہمارے پاس بھی ایسی وزیراعلیٰ ہو۔ کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب بھی سیکھنے کے لیے پنجاب تشریف لائے تھے، باقی صوبے بھی ہم سے سیکھتے رہتے ہیں۔
ان کا کہتا تھا کہ مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے گلگت بلتستان میں صرف ایک دن کی کمپین کی تھی، مسلم لیگ ن کی ٹکٹ پر 6 امیدوار وہاں سے جیتے ہیں، 2 آزاد بھی مسلم لیگ ن کے جیتے ہیں۔
’ہمارے پاس تو میاں صاحب ہیں، پی ٹی آئی والوں کے پاس کیا ہے؟‘
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ نواز شریف پر وہ تنقید کررہے ہیں جن کو ایک سیٹ بھی نہیں ملی۔ میاں نواز شریف جنرل الیکشن میں جب کمپین کے لیے نکلیں گے تو پوری دنیا دیکھے گی اور بتائیں گے الیکشن کمپین کیسے ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تو میاں صاحب ہیں، پی ٹی آئی والوں کے پاس کیا ہے؟ علیمہ باجی کا پتا نہیں چلتا کہ کہاں وہ خودکش بمبار بن جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی والے آپس میں لڑ لڑ کر بے حال ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوازشریف آزاد شہری ہیں، جہاں ان کا دل چاہے وہ جا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے الیکشن میں مسلم لیگ ن کو بہتر انداز میں الیکشن کمپین کرنی چاہیے۔ آزاد کشمیر کے الیکشن کے حوالے سے پارٹی کوئی لائحہ عمل بنائے گی، ہم پوری قوت کے ساتھ کشمیر کا الیکشن لڑیں گے۔ گلگت میں ہم نے کمپین دیر سے شروع کی، وہاں جلدی کرنی چاہیے تھی۔
’مریم نواز کی میجر سرجری ہوئی ہے، وہ اب صحتیاب ہیں‘
انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اب صحتیاب ہیں، ان کی ایک میجر سرجری ہوئی ہے۔ مریم نواز صاحبہ نے اسپتال سے ہی اپنے کام شروع کردیے تھے، اب بھی وہ آن لائن میٹنگز لے رہی ہوتی ہیں، وہ اپنا کام کررہی ہیں۔ وہ دفتر ڈاکٹرز کے مشورے کے بعد آئیں گی۔
’عمران خان آئی سائٹ مجھ سے بہتر ہے‘
عظمیٰ بخاری نے کہا ’عمران خان آئی سائٹ مجھ سے بہتر ہے مگر قیامت برپا کی جا رہی تھی کہ پتا نہیں کیا ہوگیا ہے۔ یہ پتا نہیں کون سی آنکھ ہے جس سے جان کو بھی خطرہ ہو جاتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اقتصادی مشکلات ضرور ہیں مگر پنجاب کا بجٹ ٹیکس فری ہوگا۔ وفاق جتنی فیصد تنخواہوں میں اضافہ کرے گا، پنجاب بھی اس کے مطابق پنشن اور تنخواہوں میں اضافہ کرے گا۔
’پنجاب حکومت کرائے پر اسکوٹیز فراہم کرے گی‘
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے طلبہ کے لیے ای بائیکس کی اسکیم شروع کی تھی جو کامیابی سے جاری ہے۔
’لاہور میں اب لڑکیاں ای وی اسکوٹیز چلاتی ہوئی نظر آتی ہیں، انہیں دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے۔ یہ چیف منسٹر کا وژن بھی تھا۔ مریم نواز اب ان کے لیے بھی سہولت لارہی ہیں جو اسکوٹیز خرید نہیں سکتے، ان کو اب پنجاب حکومت کرائے پر اسکوٹیز فراہم کرے گی۔‘
’پاکستان کرکٹ ٹیم کے میچز دیکھنا چھوڑ دیے‘
وزیراطلاعات پنجاب کا کہنا ہے کہ میں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے میچ دیکھنا چھوڑ دیے ہیں، ہمارے لڑکوں میں کوئی بہتری نہیں آرہی۔ چیئرمین پی سی بی کا کوئی قصور نہیں ہے، لڑکوں کو کرکٹ کھیلنی نہیں آرہی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے کھلاڑیوں کو پتا ہی نہیں بال کیسے سوئنگ کرتے ہیں۔ کرکٹ میں بھی ٹیکنالوجی آ گئی ہے، دنیا اب ٹیکنالوجی کی مدد سے کرکٹ کھیل رہی ہے، ہم ابھی بھی گلی ڈنڈے کے ساتھ معاملات چلا رہے ہیں۔
’یو کے کی ایمبیسیڈر نے بتایا کہ پاکستانی 10 ہزار اسٹوڈنٹس نے وہاں اسائلم کے لیے اپلائی کیا ہوا ہے‘
ان کا کہنا تھا کہ جو بچے تعلیم کے لیے باہر جارہے ہیں انہیں ائیرپورٹ پر نہیں روکنا چاہیے، لیکن میں یہ بات ضرور کہوں گی کہ میں جب یو کے کی ایمبیسیڈر سے ملی تو انہوں نے بتایا کہ پاکستانی 10 ہزار اسٹوڈنٹس نے وہاں اسائلم کے لیے اپلائی کیا ہوا ہے۔ دوسرے ممالک میں جاتے ہیں، وہاں سے غائب ہو جاتے ہیں۔
’پاکستانی فراڈ کرتے ہیں، اس طرح تو ہم پر کوئی اعتبار ہی نہیں کرے گا‘
انہوں نے کہا کہ ہم وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں آذربائیجان کا دورہ کیا تو وہاں کے ایمبیسیڈر نے ہمیں بتایا کہ پاکستان سے آئے 7 ہزار لوگوں کی لسٹ موصول ہوئی ہے جو یہاں آ کر اب غائب ہوگئے ہیں، جن کو واپس بھیجا جانا ضروری ہے۔
’پاکستانی فراڈ کرتے ہیں، اس طرح تو ہم پر کوئی اعتبار ہی نہیں کرے گا۔ سختی بالکل ٹھیک ہے مگر جو ٹھیک کیسز ہیں ان کو نہیں روکنا چاہیے۔‘
’باکو کے دورے میں ایک دلچسپ واقعہ کھانے کا تھا‘
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ باکو کے دورے میں ایک دلچسپ واقعہ کھانے کا تھا جو میں نے بتایا تھا۔ اس پر ہمیں کریڈٹ دیا جانا چاہیے کہ پورے 4، 5 روزہ دورے میں ایک ہی دلچسپ واقعہ کھانے کا ہی تھا جس میں بیگن کھلائے گئے، اس کے علاوہ اور کوئی واقعہ ہمارے پاس نہیں تھا، ہماری توجہ اپنے کام پر تھی۔
’میں سبزی اور دال کھانا پسند کرتی ہوں‘
انہوں نے بتایا کہ وہاں کے ایمبیسیڈر صاحب کا بھلا ہو کہ انہوں نے کہا کہ غریبوں کو کوئی کھانا بھی کھلا دیں، بیچارے صبح سے شام تک پھر رہے ہیں۔ اس کھانے میں میں نے بیگن کھا لیا۔ پوری ٹائیگر فورس کو میرے یہی 2، 4 جملے ملے۔ میں خوش ہوں کہ انہوں نے مجھے یاد کیا۔
انہوں نے کہا ’میں سبزی اور دال کھانا پسند کرتی ہوں، میں نے کبھی گوشت نہیں کھایا، میں سادہ کھانا پسند کرتی ہوں۔‘













