پلوشہ خان کی علیم خان کے خلاف تحریک استحقاق، اتحادیوں کے بیچ بدمزگی

منگل 23 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے منگل کو وزیر مواصلات علیم خان کے رویے کو عوامی عہدہ رکھنے کے لیے انتہائی غیر مناسب قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سینیٹ کی کمیٹی میں تحریک استحقاق جمع کرادی۔

یہ بھی پڑھیں: علیم خان کے ساتھ تلخی کیوں ہوئی؟ سینیٹر پلوشہ خان نے اصل وجہ بتا دی

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کمیونیکیشنز کی سینٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران سینیٹر پلوشہ خان اور وزیر علیم خان کے درمیان روڈ پروجیکٹ سے متعلق سوال پر شدید تلخ کلامی ہوئی تھی۔ پلوشہ خان نے الزام لگایا کہ علیم خان نے پارلیمانی سوال کے جواب پر ذاتی حملے کیے۔

علیم خان نے جواباً کہا تھا کہ ہم آپ کے ساتھ ویسا ہی سلوک کریں گے جیسا ہمارے ساتھ کیا جاتا ہے۔ تاہم آج اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں پلوشہ خان نے اس رویے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ ذاتی معاملہ نہیں بلکہ پارلیمان کی اجتماعی وقار کا سوال ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہم اس رویے کو برداشت کریں اور آواز نہ اٹھائیں تو یہ جلد معمول بن جائے گا۔

پلوشہ خان نے کہا کہ چند ماہ قبل انہوں نے پارلیمانی حقوق کے تحت ایک تحریری سوال جمع کروایا تھا لیکن متعلقہ حکام نے جواب نہیں دیا جس کی وجہ سے سوال کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔

مزید پڑھیے: اسلام آباد میں سروے اور ای ٹیگز: ہماری معلومات ڈارک ویب پر بک گئیں تو کون ذمہ دار ہوگا؟ سینیٹر پلوشہ خان

سینیٹر پلوشہ خان نے بتایا کہ انہوں نے قومی شاہراہوں کے ادارے کی ایک سڑک پر سوال اٹھایا جو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے بنائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ عوامی وسائل کے استعمال پر سوال اٹھانا قانون سازوں کا بنیادی فرض ہے۔

پلوشہ خان نے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ پارٹی کبھی بھی پارلیمنٹیرینز کے وقار اور قانون سازوں کے جمہوری حقوق پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کمیٹی ڈرائنگ روم نہیں بلکہ پارلیمان کی توسیع ہے جہاں ہر کوئی جوابدہ ہے اور دلائل مضبوط ہونے چاہییں نہ کہ آواز۔

پلوشہ خان نے مطالبہ کیا کہ جے آئی ٹی تشکیل دی جائے تاکہ وزارت مواصلات کے تمام معاملات کا فارنسک آڈٹ کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: ’ذات پر حملہ ہوگا تو کسی کو نہیں چھوڑوں گا‘، علیم خان اور سینیٹر پلوشہ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

اس سے قبل پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ علیم خان کو پلوشہ خان کے ساتھ تلخ کلامی پر معافی مانگنی چاہیے۔

دریں اثنا پیپلز پارٹی کی جانب سے علیم خان کے زبانی حملوں کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پارٹی خاتون کی تذلیل ناقابل برداشت نہیں کرے گی اور نہ ہی خاموش بیٹھے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی میں تعطل کا خدشہ نہیں، وزیر خزانہ کی زیر صدارت اجلاس کو بریفنگ

مسجد اقصیٰ کے دروازے 14 روز سے بند ہیں، طاہر اشرفی نے عالم اسلام سے کردار ادا کرنے کی اپیل کردی

دہشتگرد افغان حکومت نے سرخ لکیر عبور کرلی، صدر مملکت کی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی مذمت

پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں، وزیر مذہبی امور سردار یوسف

افغان طالبان کا پاکستان کی کچھ چوکیوں پر قبضے کا دعویٰ من گھڑت ہے، وزارت اطلاعات

ویڈیو

مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، حکومت نے پیٹرول کی قیمت پہلے ہی کیوں بڑھائی؟

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے