ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ الطاف حسین خود مان چکے تھے کہ وہ کئی دہائیوں سے را سے پیسے لے رہے ہیں اور پکڑے جانے والے ہیں اور اس کے علاوہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد سامنے آنے والے دستاویزات میں یورپ کے مختلف شہروں میں ہونے والی ان ملاقاتوں کے منٹس بھی شامل تھے جو بھارتی خفیہ ایجنسی کے ساتھ تعلقات کو ظاہر کرتے تھے۔
وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وہ یہ باتیں سنہ 2016 سے مسلسل کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ثبوت نئے نہیں ہیں بلکہ یہ سب 15سال سے موجود ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بھارت اور برطانیہ کے درمیان بڑی سرمایہ کاری اور سیاسی مفادات کے باعث اس کیس کو دبایا گیا کیونکہ اگر یہ معاملہ عدالت میں جاتا تو تمام دستاویزات پبلک ہو جاتیں اور بہت سے حقائق سامنے آجاتے۔
مزید پڑھیں: احتساب عدالت کراچی: حفیظ شیخ، مصطفی کمال سمیت دیگر کے خلاف ریفرنسز سماعت کے لیے مقرر
انہوں نے کہا کہ پہلی بار را کو اسکاٹ لینڈ یارڈ نے پاکستان میں دہشتگردی کروانے کے حوالے سے پکڑا مگر مداخلت کے باعث معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو الطاف حسین کے حکم پر قتل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے تحقیقات کیں، قاتلوں کو گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بھی سامنے آیا کہ قتل کے بعد فون پر مبارک باد دی گئی جسے سالگرہ کے تحفے سے تعبیر کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ کال الطاف حسین کے قریبی شخص افتخار کو کی گئی تھی جو ان کی کالز ریسیو کرتا تھا اور یہ تمام باتیں تحقیقات کا حصہ ہیں‘۔
مزید پڑھیں:مصطفیٰ کمال کی الطاف حسین کے خلاف پریس کانفرنس کی وجہ کیا بنی؟
کراچی کے سابق سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 15سال گزر جانے کے باوجود اصل ماسٹر مائنڈ کو سزا نہیں ملی اور اس دوران دنیا بھی خاموش رہی اور اب 15سال بعد وہی شخص دوبارہ پوڈکاسٹ اور تقاریر کر رہا ہے۔
ان کہنا تھا کہ عمران فاروق کی اہلیہ 15سال کینسر سے لڑتی رہیں، خیراتی گھر میں رہیں اور ان کے بچوں کی کسی نے خبر نہیں لی۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ عمران فاروق کے انتقال کے بعد لاش کی پاکستان منتقلی کے لیے چند ہزار پاؤنڈز کی اپیل کی گئی جبکہ اسی شخص کے دفاتر سے لاکھوں پاؤنڈز برآمد ہوئے اور یہ سب ریکارڈ پر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران فاروق کے قتل سے متعلق انکشافات کوئی نئی بات نہیں اور وہ یہ سب کچھ پہلے بھی کہہ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ یہ بات پہلی بار کی جا رہی ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ اب دوبارہ کیوں سامنے لائی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں:توشہ خانہ کیس ٹو: سنگین نوعیت کے مقدمے میں یہ ایک بڑا فیصلہ ہے، مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ’مرڈر انکوائری کے دوران جب ان شواہد کا سامنا کیا گیا تو کئی دنوں تک اعترافی ریکارڈنگز کروائی گئیں۔ اسی دوران دباؤ کے تحت بچاؤ کی کوششیں کی گئیں جس میں اس وقت کے وزیر داخلہ بھی شامل تھے‘۔
مصطفیٰ کمال کی سیاسی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ
ایک دہائی قبل تک الطاف حسین کے قریبی ساتھی اور پسندیدہ شخصیت سمجھے جانے والے مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ یہ سب باتیں وہ پہلے بھی کئی بار بیان کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی نقطے پر انہیں احساس ہوا کہ را کسی سیاسی جماعت کو اسکول اور اسپتال بنانے کے لیے پیسے نہیں دے رہی بلکہ پاکستان میں عدم استحکام کے لیے استعمال کر رہی ہے اور یہی ان کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹر ہونے کے باوجود انہوں نے سنہ 2013 میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان چھوڑ دیا کیونکہ وہ اس نظام کا حصہ نہیں بن سکتے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سنہ 2016 میں واپسی پر انہوں نے کھل کر بغاوت کی اور وہ سب کچھ قوم کے سامنے رکھا جو پہلے بند کمروں میں کہا جاتا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے بعد الطاف حسین اپنی طاقت کھو بیٹھے۔
مصطفیٰ کمال کہتے ہیں کہ جو کچھ وہ آج کہہ رہے ہیں وہ بھی مکمل سچ کا صرف ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پورا سچ سامنے آ جائے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے حالانکہ سب جانتے ہیں کہ قتل کس نے کروایا۔
انہوں نے استفسار کیا کہ الطاف حسین اگر واقعی بے گناہ ہیں تو برطانوی عدالتوں اور اداروں سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں:بلدیاتی نظام سے متعلق امور 28ویں آئینی ترمیم میں زیر غور آئیں گے، مصطفیٰ کمال
انہوں نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں قتل، لاپتا افراد، بوری بند لاشیں اور بھتہ ایک معمول بن چکا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ شام کو ’آج کتنے مارے گئے‘ ایسے پوچھتے تھے جیسے کرکٹ کا اسکور دریافت کر رہے ہوں، اس وقت ہر نسل اور ہر زبان کے لوگ نشانہ بن رہے تھے اور ہزاروں نوجوان لاپتا بھی تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’آج حالات مختلف ہیں، اب اس طرح کے واقعات نہیں ہو رہے‘
مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کے پاس 40 سال تک بے پناہ طاقت رہی اور اگر وہ چاہتے تو چند منٹوں میں آئینی ترمیم کروا سکتے تھے مگر انہوں نے اس طاقت کو عوام کے حقوق کے لیے استعمال نہیں کیا بلکہ جرائم اور بدمعاشی کے لیے استعمال کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آج کراچی کی حالت، پانی، بجلی، گیس، روزگار اور کوٹہ سسٹم سب اسی کا نتیجہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی اپنی استطاعت کے مطابق آئینی اصلاحات کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ ان کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔
مزید پڑھیں: بھارت اور اسرائیلی جارحیت سے صحتِ عامہ کو خطرہ ہے، مصطفیٰ کمال کا عالمی فورم پر انتباہ
انہوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ ماضی میں وہ خود بھی قصوروار تھے کہ اندھا دھند کسی کے پیچھے چلتے رہے مگر اب وہ یہ غلطی دہرانا نہیں چاہتے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے پاس کوئی ایکزیکٹیو پاور نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا پڑا کیونکہ حکومت نے 50 سیٹیں کم کردی تھیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کو ہمارے حوالے نہیں کیا گیا اور آج بھی کراچی ہمارے حوالے نہیں ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس دن ایم کیو ایم کے پاس لوکل گورنمنٹ اختیارات کے ساتھ آجائے گی تو سارا شہر 6 مہینوں میں بدل جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو اللہ فوراً نہیں پکڑتا بلکہ انہیں زندہ رکھتا ہے تاکہ وہ اپنی رسوائی خود دیکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا یقین ہے کہ اس دنیا میں حساب کتاب ہوئے بغیر کوئی نہیں جاتا۔













