یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت یافتہ اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان نے کہا ہے کہ گزشتہ ویک اینڈ پر الفجیرہ بندرگاہ سے آنے والے 2 بحری جہاز بغیر سرکاری اجازت المکلا بندرگاہ میں داخل ہوئے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ اجازت اتحادی افواج کے مشترکہ کمانڈ ہیڈکوارٹر سے حاصل نہیں کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا یمن میں امن و استحکام کی کوششوں کی حمایت کا اعلان
ترجمان اتحادی افواج کے مطابق دونوں جہازوں کے عملے نے نگرانی اور تعاقب کے نظام بند رکھے اور یمن کے مشرقی صوبوں حضرموت اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی حمایت کے لیے بڑی مقدار میں اسلحہ اور بکتر بند جنگی گاڑیاں اتاریں، جس کا مقصد کشیدگی کو ہوا دینا اور تنازع کو بڑھانا تھا۔
Coalition Joint Forces Conduct Limited Airstrike on Foreign Military Supplies at Mukalla Port
The official spokesperson of the Coalition, Major General Turki Al-Maliki, stated that on Saturday and Sunday, December 27–28, 2025, two vessels arrived from Fujairah Port to Mukalla… https://t.co/SCSYLanwUw pic.twitter.com/DePO5d9I3e
— Ali Al-Sakani | علي السكني (@Alsakaniali) December 30, 2025
لیفٹیننٹ جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کی کوششوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2216/2015 کی بھی صریح خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے صدر کی باضابطہ درخواست پر، اور شہریوں کے تحفظ کے پیش نظر، اتحادی افواج نے آج صبح ایک محدود اور مخصوص فوجی کارروائی کی، جس میں المکلا بندرگاہ پر ان جہازوں سے اتارا گیا اسلحہ اور جنگی گاڑیاں نشانہ بنائی گئیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی یمن کے جنوبی صوبوں میں عسکری نقل و حرکت پر تشویش، کشیدگی ختم کرنے پر زور
کارروائی سے قبل تمام شواہد کو مکمل طور پر دستاویزی شکل دی گئی اور آپریشن کو بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے عرفی اصولوں کے مطابق اس انداز میں انجام دیا گیا کہ کسی قسم کا ضمنی نقصان نہ ہو۔
ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اتحادی افواج حضرموت اور المہرہ میں کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی نافذ رکھنے کے لیے پرعزم ہیں، اور کسی بھی ملک کی جانب سے یمنی قانونی حکومت اور اتحادی افواج کی ہم آہنگی کے بغیر کسی بھی یمنی فریق کو عسکری مدد کی فراہمی کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاکہ خطے میں امن واستحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور تنازع کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔












