فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے اپنی پلیٹ فارمز پر جدید مصنوعی ذہانت کی سہولیات بڑھانے کے لیے چینی اے آئی اسٹارٹ اپ ’مانس‘ کو خریدنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا نے 2 نئے اے آئی ماڈلز تیار کرلیے، لانچ کب ہوں گے؟
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق میٹا نے پیر کے روز اس معاہدے کی تصدیق کی تاہم مالی شرائط کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
میٹا کے مطابق یہ اقدام کمپنی کی جانب سے اپنے صارفین کے لیے جدید اے آئی ٹیکنالوجی کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
بھرتیوں میں تیزی
ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اس وقت سخت مسابقت کے ماحول میں اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری، حصول اور ماہر افراد کی بھرتی تیزی سے کر رہی ہیں۔
اس سال کے آغاز میں میٹا نے ڈیٹا لیبلنگ اسٹارٹ اپ اسکیل اے آئی میں سرمایہ کاری کی تھی جس کی مالیت 29 ارب ڈالر لگائی گئی تھی جبکہ اس معاہدے کے تحت 28 سالہ چیف ایگزیکٹو الیگزینڈر وانگ بھی میٹا سے منسلک ہوئے تھے۔
میٹا کے ترجمان نے بزنس انسائیڈر کو جاری بیان میں کہا کہ مانس اے آئی کے حصول سے صارفین کو جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کی جا سکے گی اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات بھی شامل ہوں گے۔
مزید پڑھیے: میٹا اے آئی کے میڈیا اداروں سے معاہدے، خبروں تک رسائی آسان ہوگئی
ترجمان کے مطابق معاہدے کے بعد مانس میں کسی بھی قسم کی چینی ملکیت باقی نہیں رہے گی اور کمپنی چین میں اپنی سروسز اور آپریشنز بند کر دے گی۔
سنگاپور میں قائم مانس ایک جنرل پرپز اے آئی ایجنٹ تیار کرتی ہے جو ڈیجیٹل ملازم کے طور پر کام کر سکتا ہے اور تحقیق، خودکار نظام اور دیگر کام کم سے کم ہدایات کے ساتھ انجام دے سکتا ہے۔
میٹا نے بتایا کہ وہ مانس کی سروسز خود آپریٹ کرے گی اور انہیں اپنے صارفین اور کاروباری مصنوعات میں شامل کرے گی جن میں میٹا اے آئی بھی شامل ہے۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک صارفین کے لیے خوشخبری، میٹا نے اہم سہولت دیدی
رواں سال مانس نے اپنا اے آئی ایجنٹ متعارف کرایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کی کارکردگی اوپن اے آئی کے ڈیپ ریسرچ ایجنٹ سے بہتر ہے۔
بٹر فلائی ایفیکٹ ٹیکنالوجی لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی
مانس بیجنگ میں قائم بٹر فلائی ایفیکٹ ٹیکنالوجی لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے اور ان چینی اداروں میں شامل ہے جنہوں نے حالیہ برسوں میں سنگاپور منتقل ہو کر چین اور امریکا کے درمیان جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے بچنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔














