میٹا نے چینی اے آئی ’مانس‘ 2 ارب ڈالر میں خرید لیا

منگل 30 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیس بک کی مالک کمپنی میٹا نے اپنی پلیٹ فارمز پر جدید مصنوعی ذہانت کی سہولیات بڑھانے کے لیے چینی اے آئی اسٹارٹ اپ ’مانس‘ کو خریدنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میٹا نے 2 نئے اے آئی ماڈلز تیار کرلیے، لانچ کب ہوں گے؟

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق میٹا نے پیر کے روز اس معاہدے کی تصدیق کی تاہم مالی شرائط کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔

میٹا کے مطابق یہ اقدام کمپنی کی جانب سے اپنے صارفین کے لیے جدید اے آئی ٹیکنالوجی کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

بھرتیوں میں تیزی

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اس وقت سخت مسابقت کے ماحول میں اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری، حصول اور ماہر افراد کی بھرتی تیزی سے کر رہی ہیں۔

اس سال کے آغاز میں میٹا نے ڈیٹا لیبلنگ اسٹارٹ اپ اسکیل اے آئی میں سرمایہ کاری کی تھی جس کی مالیت 29 ارب ڈالر لگائی گئی تھی جبکہ اس معاہدے کے تحت 28 سالہ چیف ایگزیکٹو الیگزینڈر وانگ بھی میٹا سے منسلک ہوئے تھے۔

میٹا کے ترجمان نے بزنس انسائیڈر کو جاری بیان میں کہا کہ مانس اے آئی کے حصول سے صارفین کو جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کی جا سکے گی اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات بھی شامل ہوں گے۔

مزید پڑھیے: میٹا اے آئی کے میڈیا اداروں سے معاہدے، خبروں تک رسائی آسان ہوگئی

ترجمان کے مطابق معاہدے کے بعد مانس میں کسی بھی قسم کی چینی ملکیت باقی نہیں رہے گی اور کمپنی چین میں اپنی سروسز اور آپریشنز بند کر دے گی۔

سنگاپور میں قائم مانس ایک جنرل پرپز اے آئی ایجنٹ تیار کرتی ہے جو ڈیجیٹل ملازم کے طور پر کام کر سکتا ہے اور تحقیق، خودکار نظام اور دیگر کام کم سے کم ہدایات کے ساتھ انجام دے سکتا ہے۔

میٹا نے بتایا کہ وہ مانس کی سروسز خود آپریٹ کرے گی اور انہیں اپنے صارفین اور کاروباری مصنوعات میں شامل کرے گی جن میں میٹا اے آئی بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: واٹس ایپ، انسٹاگرام اور فیس بک صارفین کے لیے خوشخبری، میٹا نے اہم سہولت دیدی

رواں سال مانس نے اپنا اے آئی ایجنٹ متعارف کرایا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کی کارکردگی اوپن اے آئی کے ڈیپ ریسرچ ایجنٹ سے بہتر ہے۔

بٹر فلائی ایفیکٹ ٹیکنالوجی لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی

مانس بیجنگ میں قائم بٹر فلائی ایفیکٹ ٹیکنالوجی لمیٹڈ کی ذیلی کمپنی ہے اور ان چینی اداروں میں شامل ہے جنہوں نے حالیہ برسوں میں سنگاپور منتقل ہو کر چین اور امریکا کے درمیان جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے ممکنہ اثرات سے بچنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران کے خلاف جنگ اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ چکی، ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ

معروف آسٹریلوی آل راؤنڈر ایشٹن ٹرنر ملتان سلطانز کے کپتان مقرر

آذربائیجان کے صدر کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط، ایران کا سپریم لیڈر بننے پر مبارکباد

ترکیہ کے لیے خطرہ بننے والے اشتعال انگیز اقدامات نہ کیے جائیں، ترک صدر نے ایران کو خبردار کردیا

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بات ابھی جلد بازی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

اسلام میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے طریقے

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، حالات کنٹرول سے باہر ہونے کا خدشہ، امریکا و اسرائیل کو بھاری نقصان، ٹرمپ کی چیخیں

نقاب میں شناخت، چارسدہ کی نوجوان کنٹینٹ کریئیٹر کی کہانی

کالم / تجزیہ

انڈین کرکٹ ٹیم مسلسل ناقابل شکست کیسے بنی؟

کیا یہ امریکا کی آخری جنگ ہے؟

موکھی متارا: کراچی کی ایک تاریخی داستان