امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران میں پرامن مظاہرین پر فائرنگ کی گئی یا انہیں تشدد کے ذریعے قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔
صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کہا کہ ہم پوری طرح الرٹ ہیں، اور کارروائی کے لیے تیار ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران، البرز صوبے میں بم بنانے والے گروہ کے 14 ارکان گرفتار
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں گزشتہ 3 برس کی سب سے بڑی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مختلف صوبوں میں جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ مظاہرے معاشی بدحالی، کرنسی کی شدید گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو ابتدا میں دکانداروں کے احتجاج سے جنم لے کر پورے ملک میں پھیل گئے۔ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم کو ایران میں جاری بے چینی میں ایک سنگین اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہروں میں 6 ہلاک، صدر نے طلبا اور تاجروں کے جائز مطالبات تسلیم کرلیے
ماہرین کے مطابق ایران کی معیشت 2018 سے شدید دباؤ کا شکار ہے، جب صدر ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں عالمی جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی صدر کے بیان کے بعد خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔














