ایران میں مہنگائی اور معاشی بدحالی کے خلاف پھیلنے والے مظاہروں میں کم از کم 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، لورستان صوبے کے شہر آزنا میں 3 افراد ہلاک اور 17 دیگر زخمی ہو گئے۔ شہر کی گلیوں میں آگ لگنے اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جبکہ مظاہرین نے ’شرمناک! شرمناک!‘ کے نعرے لگائے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان کی بیٹی ایمان تاجک جو محض 3 سال میں قومی ووشو اسٹار بن گئی
اس سے پہلے، فارس نے رپورٹ کیا کہ لاوردگان شہر میں 2 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کوہِ دشت شہر میں ایک 21 سالہ بسیج رکن مظاہروں کے دوران ہلاک ہوا۔
مظاہرے ابتدائی طور پر پرامن تھے لیکن بعد میں طلبا کی شمولیت کے بعد مختلف شہروں میں پھیل گئے۔ مظاہرین نے انتظامی عمارتوں اور بینکوں پر پتھراؤ کیا جس پر پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
صدر مسعود پزیشکیان نے مظاہرین کے ’جائز مطالبات‘ تسلیم کیے اور حکومت سے کہا کہ وہ اقتصادی صورتحال بہتر کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ حکومتی ترجمان فاطمہ محجریانی نے کہا کہ تاجروں اور یونینز کے نمائندوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کی جائے گی، مگر تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
مزید پڑھیں: یورپ کا غیرقانونی سفر مزید 2 جانیں نگل گیا، ایران ترکیہ سرحد پر جاں بحق شہریوں کی لاشیں پاکستان پہنچ گئیں
دوسری جانب، پراسیکیوٹر جنرل نے خبردار کیا کہ اقتصادی مظاہروں کو انتشار یا عوامی املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کا قانونی، مناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
ایران کی معیشت پر 40 فیصد مہنگائی اور مغربی پابندیوں کے اثرات شدید ہیں، جبکہ گزشتہ جون میں اسرائیل اور امریکا کے ہوائی حملوں نے ملک کے جوہری اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا تھا۔













