بھارت کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک کم عمر روہنگیا خاتون اور ان کے 5 ماہ کے بچے کی رہائی کو یقینی بنائے جنہیں عدالتی سزا پوری ہونے کے باوجود مبینہ طور پر غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے روہنگیا مہاجرین کو سمیں جاری کرنے کا عمل شروع کردیا
تحریری شکایت میں بنگلار مانب ادھیکار سُرکشا منچا (ماسُم) نے بتایا کہ مذکورہ خاتون، جن کی شناخت مس امینہ (عمر تقریباً 20 سال) کے طور پر کی گئی ہے، کو مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں واقع بہارام پور سینٹرل کریکشنل ہوم میں رکھا گیا ہے۔
درخواست کے مطابق امینہ، جو میانمار سے جبری بے دخلی کے بعد بنگلہ دیش پہنچی تھیں اور یو این ایچ سی آر میں رجسٹرڈ ہیں، کو مئی 2025 میں بھارت کے فارنرز ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔
بعد ازاں نادیہ ضلع کی ایک عدالت نے ستمبر 2025 میں انہیں 6 ماہ قید سادہ اور ایک ہزار بھارتی روپے جرمانے کی سزا سنائی جو ادا کی جاچکی ہے۔
مزید پڑھیے: ملائیشیا کے قریب روہنگیا مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، 7 ہلاک، سینکڑوں لاپتا
ماسُم کا کہنا ہے کہ امینہ آٹھ ماہ سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی قانونی سزا سے تقریباً دو ماہ زائد قید کاٹ چکی ہیں، جبکہ ان کے ساتھ ان کی نومولود بیٹی بھی قید ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ حراست “کسی قانونی جواز کے بغیر” ہے اور بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
خط میں بتایا گیا ہے کہ امینہ کو انسانی اسمگلنگ کے ذریعے بنگلہ دیش-بھارت سرحد کی جانب لایا گیا اور بعد ازاں بھارت میں داخل ہونے پر دیگر افراد کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے انہیں انسانی اسمگلنگ کا شکار اور ایک کم عمر ماں قرار دیتے ہوئے ان کی کمزور حیثیت پر بھی زور دیا۔
ماسُم نے این ایچ آر سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے، فوری رہائی کو یقینی بنائے اور ذمہ دار حکام کے خلاف کارروائی کرے، جسے تنظیم نے من مانی حراست قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ترک پارلیمانی وفد کی بنگلہ دیش کے خارجہ مشیر سے ملاقات، روہنگیا کیمپوں کا دورہ
بھارتی حکام کی جانب سے تاحال ان الزامات پر کوئی عوامی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کی جانب سے درخواست کا جائزہ لیے جانے کی توقع ہے۔













