پاکستانی خاندان دو تہائی آمدن خوراک اور رہائش پر خرچ کرنے پر مجبور، سروے میں انکشاف

جمعہ 2 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت کے تازہ سروے کے مطابق پاکستانی خاندان اپنی آمدن کا تقریباً دو تہائی حصہ خوراک اور رہائش سے متعلق اخراجات پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے بیرونِ ملک ترسیلاتِ زر اور مالی امداد پر انحصار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعرات کو ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ مہنگائی میں اضافے کے باعث گھریلو اخراجات آمدن کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑھتی ہوئی قیمتوں نے قوتِ خرید کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں تعلیم پر خرچ ہونے والی رقم کم ہو کر صرف 2.5 فیصد رہ گئی، جو ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس پر اخراجات سے بھی کم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: مہنگائی تاریخ کی کم ترین سطح پر، معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، وزیر خزانہ

سروے کے مطابق گھریلو آمدن میں بیرونِ ملک ترسیلاتِ زر کا حصہ 5 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 8 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ تحائف اور مالی امداد کا تناسب دگنا ہو کر 4.6 فیصد تک پہنچ گیا، جسے غیر رسمی مالی سہارا قرار دیا گیا ہے۔

ماہرینِ معاشیات کے مطابق روزگار کے محدود مواقع کے باعث نوجوانوں کی بیرونِ ملک ہجرت میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً دیہی علاقوں میں ترسیلاتِ زر پر انحصار گزشتہ چھ برسوں میں دگنا ہو چکا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ 6 برسوں میں اوسط ماہانہ آمدن میں اضافہ ضرور ہوا ہے، تاہم اخراجات اس سے زیادہ تیزی سے بڑھے۔ شہری علاقوں میں اوسط آمدن 53 ہزار روپے سے بڑھ کر 96 ہزار 767 روپے ہو گئی، جبکہ مجموعی اوسط آمدن 82 ہزار 179 روپے رہی۔ اس کے مقابلے میں اوسط اخراجات 37 ہزار سے بڑھ کر 79 ہزار روپے ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے: سال 2025 کے دوران ملک بھر میں مہنگائی بڑھی یا کم ہوئی؟

سروے کے مطابق خوراک پر 37 فیصد اور رہائش، بجلی و گیس پر 26 فیصد اخراجات کیے گئے۔ دودھ، گندم اور چینی خوراکی اخراجات میں نمایاں رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دوہرے ہندسوں کی مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پالیسی اقدامات نے خاص طور پر متوسط طبقے کو متاثر کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں