ہم ’جے شری رام‘ اور ’جے بھارت ماتا‘ نہیں کہیں گے، التجا مفتی

ہفتہ 3 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مقبوضہ جموں و کشمیر کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے کہا ہے کہ کشمیر میں آزادیٔ اظہار تقریباً ختم ہو چکی ہے اور وہ یہاں ہندوتوا کو کام کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ انہیں ’جے شری رام‘ اور ’جے بھارت ماتا‘ کہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

سری نگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے التجا مفتی نے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت جموں و کشمیر کی صورتحال کیا ہے؟ 3 دن پہلے یہاں VPN تک بند کر دیے گئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بات کرنے کی کوئی آزادی باقی نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر ’خاموش اور اُداس‘، مگر یہ خاموشی خطرناک ہے: کنسرنڈ سٹیزنز گروپ کی چشم کشا رپورٹ

انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل منتخب ہونے والی حکومت سے عوام کو بڑی توقعات تھیں، مگر کام کرنا تو دور کی بات، وہ اپنی آواز بلند کرنے کے لیے بھی تیار نہیں ہے۔ اسی لیے لوگ شدید مایوسی اور غصے کا شکار ہیں۔

التجا مفتی نے کہا کہ اگر کشمیر میں لوگ فلسطین کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں تو اس میں کوئی غلط بات نہیں۔
’لندن، یورپ، امریکا، ہارورڈ اور آئیوی لیگ یونیورسٹیز میں لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ غزہ میں کس طرح لوگوں کو قتل کیا جا رہا ہے اور ایک پوری نسل کو مٹایا جا رہا ہے۔‘

انہوں نے الزام لگایا کہ کشمیر میں لوگوں کو ہر معاملے میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ قانون کے نام پر ہو رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہاں قانون کی کوئی عملداری باقی نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھیے نیشنل کانفرنس کے اجلاس میں مودی سرکار پر کڑی تنقید، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اپنے اتحادی خواتین کے حجاب اور ماسک اتار رہے ہیں، جو کہ تشویشناک ہے۔

التجا مفتی نے مزید کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کشمیری طلبہ اور کشمیری شال فروشوں کو ہماچل پردیش اور ہریانہ میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم کشمیر میں ہندوتوا کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟