کویت کا نیا اقامتی قانون: غیر ملکیوں کے لیے اہم اور آسان رہنما اصول

ہفتہ 3 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کویت نے غیر ملکی رہائشیوں کے لیے اقامتی قانون میں نئی تبدیلیاں متعارف کرا دی ہیں، جن کا مقصد بیرونِ ملک قیام کی مدت کو محدود کرنا اور اقامتی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔ نئے قواعد کے تحت طویل عرصے تک کویت سے باہر رہنے والوں کے لیے واضح حد مقرر کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کویت میں آئندہ برس جنوری میں 6 عام تعطیلات کا اعلان

کویت کی وزارتِ داخلہ نے نئے اقامتی قانون کے تحت غیر ملکی رہائشیوں کے لیے ایک نیا ضابطہ نافذ کر دیا ہے، جس کے مطابق کوئی بھی غیر ملکی شہری زیادہ سے زیادہ 6 ماہ تک کویت سے باہر رہ سکتا ہے۔ اس مدت سے زیادہ بیرونِ ملک قیام کی صورت میں اقامتی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔

خلیج نیوز کے مطابق یہ فیصلہ کویت کے اقامتی قانون کے نئے انتظامی ضوابط کا حصہ ہے اور اس کا اطلاق زیادہ تر تمام اقامتی زمروں پر ہوگا۔ تاہم سرمایہ کاروں اور جائیداد رکھنے والوں کو اس قانون میں کچھ حد تک استثنا حاصل ہوگا۔

نئے قواعد گھریلو ملازمین پر بھی لاگو ہوں گے، جو آرٹیکل 20 کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔ ان کے لیے بیرونِ ملک قیام کی زیادہ سے زیادہ مدت 4 ماہ مقرر کی گئی ہے۔ اگر اس سے زیادہ چھٹی درکار ہو تو کفیل کو باقاعدہ اجازت لینا ہوگی۔

حکام کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد اقامتی قوانین پر عمل درآمد کو بہتر بنانا اور غیر ملکی آبادی کے نظم و نسق کو مؤثر بنانا ہے، جبکہ طویل عرصے سے مقیم غیر ملکیوں کے لیے کچھ نرمی بھی رکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق 6 ماہ کی حد کا نفاذ کویت کی امیگریشن پالیسی میں ایک اہم تبدیلی ہے، جو مستقبل میں غیر ملکی آبادی کے انتظام پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp